امریکی جہازوں کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا دعویٰ جھوٹا ہے،ایرانی فوج

تہران(جانوڈاٹ پی کے)ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک نیا محفوظ راستہ بنانے کے لیے امریکی جہازوں کی آمد کا دعویٰ سختی سے مسترد کردیا۔
عالمی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کا یہ دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے۔
ایرانی کمانڈر نے امریکی جہاز کے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بحری جہاز کی نقل و حرکت اور گزرگاہ کا اختیار ایران کی مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے۔
یاد رہے کہ چند گھنٹوں قبل امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے دو جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک محفوظ راستہ تیار کرنے کے مشن میں حصہ لیا۔
انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ دونوں جہاز بارودی سرنگیں ہٹانے کے مشن کو شروع کرنے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیج میں داخل ہوگئے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی میں آبنائے ہرمز کو کھولنے پر بھی اتفاق ہوا تھا لیکن اب بھی کئی بحری جہاز اس اہم گزرگاہ سے گزرنے سے قاصر ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ بحری جہازوں کو بارودی سرنگوں کے علاوہ ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل حملوں کا خطرہ بھی ہے جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ان بارودی سرنگوں کو بچھایا تھا اور اس کا مکمل ریکارڈ بھی محفوظ نہیں رکھا جب کہ کئی مائنز کے لہروں کے ذریعے سرک جانے یا بہہ جانے کا بھی خدشہ ہے۔
امریکی حکام نے یہ بھی کہا تھا کہ زمین میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نسبت سمندری بارودی سرنگوں کو بچھانا اور پھر اسے کلیئر کرنا زیادہ مشکل کام ہے جس کی صلاحیت ایران کے پاس نہیں۔
اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کو صاف کر رہا ہے جو کہ ان ممالک کو کرنا چاہئے تھا جو امریکا پر سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں۔



