اسلام آباد نیو ورلڈ آرڈر کا مرکز،40روزہ جنگ کے بعد سنسنی خیز تبدیلیاں

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ /جانو ڈاٹ پی کے)اسلام آباد اس وقت ایک نئے عالمی نظام(New World Order) کی تشکیل کا مرکز بن چکا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات خطے اور دنیا کا مستقبل طے کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ان تاریخی مذاکرات کے لیے وزیراعظم ہاؤس، کنونشن سینٹر اور سرینہ ہوٹل میں انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ مذاکرات کی میز پر پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شرکت متوقع ہے۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد 40 روزہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو سمیٹنا اور ایک ایسی "ون ون سچویشن” پیدا کرنا ہے جہاں امریکہ کو ایک باعزت راستہ (Face Saving) مل سکے اور ایران کے جائز مطالبات، بشمول یورینیم انرچمنٹ کی صلاحیت اور منجمد اثاثوں کی واپسی، پر کوئی درمیانی راہ نکالی جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات محض دو ملکوں کی صلح نہیں بلکہ ایک بڑے عالمی شفٹ کا پیش خیمہ ہیں، جس میں ایران کی "لک ایسٹ” (Look East) پالیسی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ ایران اب ڈالر کی بجائے یوان اور کرپٹو کرنسی پر توجہ مرکوز کر رہا ہے تاکہ مغرب کے معاشی حصار سے نکل سکے۔ پاکستان کے لیے یہ مذاکرات اس لحاظ سے اہم ہیں کہ ان کی کامیابی سے پاک-ایران گیس پائپ لائن جیسے منصوبے مکمل ہو سکیں گے اور پاکستان کو سستا تیل اور گیس میسر آئے گی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے لیے یہ مذاکرات 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے ایک بڑا سیاسی میڈل ثابت ہو سکتے ہیں۔ دنیا اب تین بڑے بلاکس—امریکہ، یورپ اور گلوبل ایشیا—میں تقسیم ہوتی نظر آ رہی ہے، اور اس پورے منظرنامے میں اسلام آباد ایک ایسے محور کے طور پر ابھرا ہے جسے عالمی طاقتیں نظر انداز نہیں کر سکتیں۔




