ڈپٹی کمشنر بدین کی زیر صدارت اجلاس، ہاری کارڈ ڈیٹا اپڈیٹ جلد مکمل کرنے کا حکم،گندم فی من 3500 روپے ادائیگی کا اعلان

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)ڈپٹی کمشنر بدین یاسر بھٹی کی زیر صدارت ہاری کارڈ اور کاشتکاروں کے مسائل سے متعلق کمیٹی روم میں اہم اجلاس منعقد کیا گیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر بدین یاسر بھٹی نے سندھ بینک کے منیجرز اور محکمہ زراعت کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ہاری کارڈ میں موجود غلطیوں کو درست کرکے جلد از جلد ڈیٹا اپڈیٹ کیا جائے تاکہ باقی ماندہ ہاری کارڈز کاشتکاروں کو فراہم کیے جا سکیں تعلقہ سطح پر ہونے والے اجلاسوں میں سندھ بینک کے منیجرز کی غیر حاضری پر ڈپٹی کمشنر بدین نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ بینک کے منیجرز اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں یہ اجلاس صرف کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں، منیجرز کی غیر ذمہ داری افسوسناک ہے۔ آئندہ غیر حاضری کی صورت میں اسٹیٹ بینک اور دیگر اعلیٰ حکام کو خط لکھا جائے گا اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے محکمہ خوراک کے افسر نے بتایا کہ حکومت سندھ کی جانب سے جن کاشتکاروں کو ہاری کارڈ جاری کیے گئے ہیں، انہیں سندھ بینک کی طرف سے ان کے موبائل نمبرز پر پیغامات موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ پیغام کے مطابق 25 ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے آبادگار فی ایکڑ ساڑھے 12 من گندم (100 کلو والی پانچ بوریاں) کے حساب سے محکمہ خوراک کے مقرر کردہ خریداری مراکز پر گندم فراہم کریں گے، جس کے بعد سندھ بینک کے ذریعے فی من 3500 روپے کے حساب سے ادائیگی کی جائے گی بار دانہ اور مزدوری کے اخراجات آبادگار خود برداشت کرے گا خریداری مراکز میں پی آر سی بدین، پی آر سی تلہار، پی آر سی گولارچی، پی آر سی ٹنڈو غلام علی اور ڈبلیو پی سی ٹنڈو باگو شامل ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ خریداری صرف انہی کاشتکاروں سے کی جائے گی جنہیں ہاری کارڈ جاری کیے گئے ہیں اور انہیں موبائل پیغامات کے ذریعے وزن اور خریداری مراکز کی تفصیلات بھی فراہم کی جا رہی ہیں اجلاس میں آبادگاروں کی جانب سے جنرل سیکریٹری چیمبر آف ایگریکلچر وفا لطیف جوکھیو، ممبر سندھ چیمبر آف ایگریکلچر اللہ ڈنو چانڈیو اور دیگر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 25 ایکڑ سے زائد زمین پر گندم کاشت کرنے والے کاشتکاروں کی گندم خرید نہیں کی جا رہی جبکہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت بھی کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف ڈیزل کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں اور دوسری طرف کھاد (یوریا) بھی مہنگی ہو چکی ہے، موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق آبادگاروں کے اخراجات بھی پورے نہیں ہو رہے انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند برسوں سے فصلوں کی کم قیمتوں کی وجہ سے کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتیں کم کی جائیں، کھاد اور بیج پر سبسڈی دی جائے اور زرعی اجناس کو عالمی منڈی تک رسائی فراہم کی جائے تاکہ کسان خوشحال ہو سکیں۔ کسان خوشحال ہوگا تو ملکی معیشت بھی مضبوط ہوگی



