نگاہِ بہ شرق،ایران کی ’لک ایسٹ‘ پالیسی، ڈالر راج ختم،پاکستان کا مستقبل روشن

تحریر:نہال معظم
دنیا کی سیاست میں ایک پرانی کہاوت ہے کہ جب ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو قدرت کہیں نہ کہیں سے کوئی دوسرا در کھول دیتی ہے، لیکن ایران کے معاملے میں محض در نہیں بلکہ پورا ایک مشرقی افق طلوع ہو چکا ہے۔ تہران کی گلیوں سے نکل کر اسلام آباد اور بیجنگ کے ایوانوں تک پھیلی یہ کہانی دراصل ایک ایسی تزویراتی چال ہے جس نے واشنگٹن اور برسلز کے چالبازوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں ۔ایران کی اس حکمتِ عملی کو ‘لک ایسٹLook East’ یا ‘نگاہ بہ شرق’ پالیسی کہا جاتا ہے، جس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ اب ایران نے اپنی معیشت، سیاست اور دفاع کی ڈوریاں مغرب کے بجائے ایشیا کی ابھرتی ہوئی طاقتوں سے باندھ لی ہیں۔ اس پالیسی کا بیج تو 20 سال پہلے بویا گیا تھا، لیکن اسے ایک منظم اور جارحانہ رخ سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے دیا، جنہوں نے 2005 میں یہ واضح کر دیا تھا کہ ایران اب مغرب کی شرائط پر زندہ نہیں رہے گا۔ احمدی نژاد نے ایران کو یہ باور کرایا کہ اگر امریکہ اور یورپ اسے ایٹمی پروگرام کے بہانے دیوار سے لگانا چاہتے ہیں، تو ایشیا کی ابھرتی ہوئی منڈیاں ایران کا انتظار کر رہی ہیں۔ بعد ازاں، سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اس نظریے کو ایک مستقل ریاستی ستون بنا دیا اور ابراہیم رئیسی کے دور میں اسے عملی جامہ پہنایا گیا، کیونکہ ایران یہ جان چکا تھا کہ جب تک وہ ڈالر کے نظام کا قیدی رہے گا، مغرب اسے سانس نہیں لینے دے گا۔
اس پالیسی کے مقاصد اور فوائد اتنے گہرے ہیں کہ انہوں نے عالمی سیاست کا رخ ہی بدل دیا ہے۔ ایران اب اپنا تیل ڈالر کے بجائے مقامی کرنسیوں میں بیچ کر ان امریکی پابندیوں کو ردی کا ڈھیر بنا چکا ہے جو کبھی اس کی معیشت کا گلا گھونٹتی تھیں۔ اس کھیل میں چین سب سے بڑا سہارا بن کر ابھرا ہے، جسے اپنی صنعتوں کے لیے ایران کا سستا تیل چاہیے اور اپنے ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ منصوبے کے لیے ایران کا راستہ۔ دوسری طرف روس کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسا مضبوط فوجی اور تزویراتی ساتھی مل گیا ہے جو مغربی اثر و رسوخ کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن چکا ہے۔ اس صورتحال نے امریکہ اور یورپ کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے، کیونکہ ایران کا مشرق کی طرف جھکنا براہِ راست مغربی پابندیوں کی موت ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، ایران کی یہ پالیسی ہمارے لیے کسی تزویراتی نعمت سے کم نہیں، کیونکہ جغرافیائی طور پر پاکستان وہ واحد قدرتی پل ہے جو ایران کو چین اور باقی ایشیا سے جوڑ سکتا ہے۔ اگر ایران مشرق کی طرف دیکھتا ہے تو اسے اپنی گیس پائپ لائن اور تجارتی راہداریوں کے لیے پاکستان کی زمین چاہیے، جو ہمیں سستی توانائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پورے خطے میں تجارتی گیٹ وے کا درجہ دلا سکتی ہے۔
اس بساط پر انڈیا انتہائی دلچسپ اور مشکل صورتحال میں پھنس چکا ہے۔ بھارت نے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری تو اس لیے کی تھی کہ وہ پاکستان کو بائی پاس کر کے وسطی ایشیا تک پہنچ سکے، لیکن ایران کا چین اور روس کے بلاک میں مکمل طور پر ضم ہو جانا بھارت کے لیے ایک بڑی سفارتی موت بن گیا ہے۔ بھارت ایک طرف امریکہ کا تزویراتی پارٹنر ہے اور دوسری طرف اسے ایران کی ضرورت ہے، جبکہ پاکستان کو یہاں یہ برتری حاصل ہے کہ چین ہمارا ‘آل ویدر فرینڈ’ ہے اور وہی چین اب ایران کا سب سے بڑا ضامن بن چکا ہے۔ ایران کی یہ ‘مشرقی’ سوچ عالمی نظام میں ڈالر کی بادشاہت ختم کرنے کی طرف ایک بڑا قدم ہے جس سے پاکستان، ایران اور چین کا ایک ایسا بلاک بن رہا ہے جو آنے والے وقت میں ایشیا کی تقدیر بدل دے گا۔
پاکستان کے لیے یہ لمحہ کسی تاریخی امتحان سے کم نہیں، جہاں قدرت نے اسے ایک بار پھر خطے کی تقدیر بدلنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ایران کا مشرق کی طرف جھکاؤ دراصل پاکستان کے لیے ان تمام بند دروازوں کو کھولنے کی کنجی ہے جو برسوں سے بیرونی دباؤ کے باعث مقفل تھے۔ اگر پاکستان اپنی تزویراتی اہمیت اور جیو-اکنامک پوزیشن کا درست ادراک کر لے، تو وہ نہ صرف ایران اور چین کے درمیان ایک مضبوط تجارتی پل بن کر ابھر سکتا ہے بلکہ پورے خطے کو سستی توانائی اور جدید تجارتی راہداریوں کا تحفہ بھی دے سکتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک پر اعتماد ریاست کے طور پر اپنی سمت کا تعین کریں، کیونکہ ایشیا کے اس نئے طلوع ہوتے سورج کی تپش بتا رہی ہے کہ مستقبل اب ان قوموں کا ہے جو اپنی جیو-پولیٹیکل اہمیت کو معاشی خوشحالی میں بدلنے کا ہنر جانتی ہیں۔



