اسلام آباد عالمی قلعے میں تبدیل،ٹرمپ جنگ سے نکلنے کو بے چین

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/جانو ڈاٹ پی کے)اسلام آباد اس وقت ایک عالمی قلعے کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے تمام تعلیمی ادارے، سرکاری دفاتر اور کاروبار بند کر دیے گئے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نائب صدر جے ڈی وینس کو دو ٹوک ہدایات دے کر پاکستان روانہ کیا ہے کہ "کچھ بھی ہو جائے، معاہدہ کر کے ہی آنا”۔ ٹرمپ اس وقت مشرق وسطیٰ کی جنگ سے نکلنے کے لیے بے چین ہیں اور انہوں نے برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سے بھی اس سلسلے میں رابطہ کیا ہے۔ دوسری جانب، ایران نے آبنائے ہرمز سے امریکی تیل بردار جہازوں کے گزرنے کے لیے ‘ٹیکس’ کی شرط عائد کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ اب کسی امریکی دھوکے میں نہیں آئیں گے۔
پاکستان میں جاری سیاسی گہما گہمی کے دوران، پی ٹی آئی کے حامیوں اور کچھ تجزیہ نگاروں کی جانب سے یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ اگر حکومت امریکہ اور ایران کے درمیان صلح کروا سکتی ہے تو اسے ملک کے اندر بھی ‘اپنوں’ یعنی عمران خان کے ساتھ صلح کرنی چاہیے۔ تاہم، سینئر صحافی امداد سومرو کا کہنا ہے کہ ماضی کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ جب بھی پاکستان نے عالمی سطح پر کوئی کامیابی حاصل کرنا چاہی، پی ٹی آئی نے دھرنوں اور احتجاج کے ذریعے اسے سبوتاج کرنے کی کوشش کی۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے حالیہ ٹویٹ، جس میں انہوں نے اسرائیل کو ‘انسانیت پر دھبہ’ قرار دیا تھا، کے ڈیلیٹ ہونے پر بھی بحث جاری ہے کہ آیا یہ حکومت کے دباؤ پر ہوا یا ایکس (ٹویٹر) نے اسرائیلی احتجاج پر اسے ہٹایا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کی آمد شروع ہو چکی ہے اور پاکستان کی فضائیہ ایرانی وفد کو فولادی حصار میں لے کر پاکستان لا رہی ہے تاکہ اسرائیل کسی قسم کی بزدلانہ کارروائی نہ کر سکے۔




