متحدہ عرب امارات کا ایران کی آئل ریفائنری پر حملہ؟

​اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)​مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے اس وقت ایک نہایت سنسنی خیز رخ اختیار کر لیا ہے جب ایرانی میڈیا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ایران کے لوان جزیرے پر واقع اہم آئل ریفائنری اور پیٹرو کیمیکل کمپلیکس پر ہونے والے حملے میں امریکہ یا اسرائیل نہیں بلکہ مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات ملوث ہے۔ اس حوالے سے ایک تصویر بھی جاری کی گئی ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والے مخصوص جیٹ طیارے صرف اماراتی فضائیہ کے پاس ہیں، اگرچہ متحدہ عرب امارات نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے ایران کو ہی خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان سنگین حالات کے سائے میں پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد عالمی سفارت کاری کا مرکز بن چکا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت ہونے والے اہم ترین اجلاس میں ان مذاکرات کی سیکورٹی اور طریقہ کار کو حتمی شکل دی گئی ہے جس کے مطابق وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار دونوں وفود کے درمیان رابطہ کاری اور شٹل ڈپلومیسی کا کردار ادا کریں گے۔ دوسری جانب ایرانی سفیر کی جانب سے ایرانی وفد کی آمد سے متعلق ٹویٹ کر کے اسے فوری طور پر ڈیلیٹ کرنے نے بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے جسے سیکورٹی ذرائع وفد کی نقل و حرکت خفیہ رکھنے کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔ لبنانی وزیراعظم نے بھی پاکستان سے اسرائیلی جارحیت رکوانے کے لیے مدد طلب کی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ خطے کی نظریں اب اسلام آباد کے ان مذاکرات کے نتائج پر لگی ہوئی ہیں۔

​معظم فخر کی اس اہم رپورٹ کا مکمل وی لاگ دیکھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button