ایران کی تاریخ ساز فتح: اسلام آباد کی میزبانی میں الٹتے عالمی برج

معظم فخر:

​گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے بارود بھرے ماحول میں جس طرح سفارت کاری کی شبنم افشانی ہوئی ہے، اس نے عالمی سیاست کے ایوانوں میں ایک زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ دنیا جو ایٹمی تصادم کے دہانے پر کھڑی آخری ہچکیاں لے رہی تھی، اچانک واشنگٹن سے آنے والے ایک غیر متوقع "اعترافِ ہزیمت” نے اسے ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جن کا لہجہ چند ساعت پہلے تک فرعونیت کی انتہا کو چھو رہا تھا اور جو ایک قدیم تہذیب کو نقشِ عالم سے مٹانے کے درپے تھے، اچانک نہ صرف دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی پر ڈھیر ہو گئے بلکہ انہوں نے تہران کے مرتب کردہ دس نکاتی ایجنڈے کو من و عن تسلیم کرتے ہوئے اسے دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ یہ محض ایک عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ جدید تاریخ کا وہ فیصلہ کن موڑ ہے جہاں ایک عالمی سپر پاور نے اپنے تمام تر تکبر کو بالائے طاق رکھ کر اس حریف کی شرائط مانی ہیں جسے وہ صفحہ ہستی سے مٹانے کا دعویٰ کر رہا تھا۔

​بین الاقوامی سیاست کے میدان میں جیت اور ہار کا حقیقی پیمانہ اب میدانِ جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر طے پانے والے سمجھوتے بن چکے ہیں۔ اگر اس ترازو میں تولا جائے تو یہ معرکہ تہران کے نام رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جس اعلامیے کی توثیق کی، اس کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ابنائے ہرمز میں بحری بیڑوں کی آمد و رفت اب واشنگٹن کی مرضی سے نہیں بلکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی اجازت اور ان کی وضع کردہ تکنیکی حدود کے تابع ہوگی۔ یہ وہی وائٹ ہاؤس ہے جو ایران کی ایٹمی صلاحیت کو جڑ سے اکھاڑنے کا علم بلند کیے ہوئے تھا، مگر آج وہ تہران کے سامنے بحری گزرگاہوں کے لیے "محفوظ راستہ” مانگنے پر مجبور ہے۔ اس سزویراتی پسپائی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عالمی طاقت کا مرکز اب تیزی سے مغرب کے حصار سے نکل کر ایشیائی افق پر نمودار ہو رہا ہے۔

​اس ڈرامائی یوٹرن کے پیچھے محض بیرونی دباؤ نہیں بلکہ امریکی ریاست کے داخلی ڈھانچے میں اٹھنے والا وہ طوفان بھی ہے جس نے وائٹ ہاؤس کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ پینٹاگون کی عسکری قیادت نے سویلین تنصیبات اور ایرانی شہری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے صدارتی احکامات پر جس طرح پیشہ ورانہ اور قانونی سوالات کھڑے کیے، اس نے صدر ٹرمپ کو مکمل طور پر تنہا کر دیا۔ امریکی جرنیلوں کا یہ صاف انکار کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور "وار کرائمز” کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہیں اٹھائیں گے، صدر کے لیے ایک کاری ضرب ثابت ہوا۔ مزید برآں، واشنگٹن کے سیاسی گلیاروں میں ڈیموکریٹس کی جانب سے پچیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر کی بے دخلی کی جو تحریک شروع ہوئی، اس نے ٹرمپ کو یہ باور کرا دیا کہ ایران پر مہم جوئی ان کے اپنے اقتدار کا سورج غروب کر سکتی ہے۔

​اس عالمی بحران میں پاکستان کا کردار ایک "تزویراتی محور” کے طور پر ابھرا ہے، جس کی بازگشت پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔ عالمی برادری انگشت بدنداں ہے کہ جس گتھی کو بڑی بڑی طاقتیں سلجھانے میں ناکام رہیں، اسے اسلام آباد کی خاموش مگر انتہائی موثر سفارت کاری نے کس طرح حل کر دیا۔ صدر ٹرمپ کا اپنے سرکاری بیان میں پاکستانی قیادت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کرنا اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ عالمی تزویراتی بساط پر پاکستان اب ایک ناگزیر کھلاڑی بن چکا ہے۔ دس اپریل کو اسلام آباد میں سجنے والی امن کی یہ محفل محض ایک رسمی ملاقات نہیں بلکہ عالمی استحکام کی وہ بنیاد ثابت ہوگی جو خطے کو ایک بڑی تباہی سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف ایک ایٹمی قوت ہے بلکہ ایک ایسا ذمہ دار ملک ہے جو عالمی امن کے لیے ناگزیر بن چکا ہے۔

​دوسری جانب اسرائیل، جو اس پورے تنازع کا اصل محرک اور تہران پر ضرب لگانے کے لیے بے چین تھا، اب خود کو ایک عجیب بیگانگی کی صورتحال میں پا رہا ہے۔ نیتن یاہو حکومت نے اس جنگ بندی کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہر ممکن حربہ آزمایا، مگر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سخت گیر رویے نے تل ابیب کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔ اگرچہ اسرائیل اب بھی لبنان کے محاذ پر اپنی ناکامی کا غصہ نکال رہا ہے اور وہاں کی سرحدوں پر قبضے کے دعوے کر رہا ہے، مگر عالمی برادری کا بڑھتا ہوا دباؤ اب اس کے گرد حصار تنگ کر رہا ہے۔ ایرانی عوام نے جس طرح اپنے قومی اثاثوں کے گرد انسانی دیوار کھڑی کر کے بے مثال جرات کا مظاہرہ کیا، اس نے ثابت کر دیا کہ جب قومیں اپنی بقا اور خودمختاری کے لیے متحد ہو جائیں تو دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور اسلحہ ان کے عزم کے سامنے محض کاغذ کے ٹکڑے ثابت ہوتے ہیں۔ یہ تجزیہ اس بدلتی ہوئی حقیقت کی دستاویز ہے جہاں کل کا ناقابلِ شکست کہلانے والا ٹولہ آج اپنی ساکھ بچانے کے لیے مذاکرات کی پناہ ڈھونڈ رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button