بارود کا ڈھیر،بس اک چنگاری کی دیر،اسرائیل روس اور چین کے نشانے پر آگیا

​اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/جانو ڈاٹ پی کے)مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششیں اس وقت بارود کے ڈھیر پر کھڑی نظر آ رہی ہیں کیونکہ اسرائیل نے سیز فائر کے باوجود لبنان پر اپنی تاریخ کے بدترین فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جس میں محض 10 منٹ کے دوران 100 سے زائد حملے کر کے سینکڑوں بے گناہ شہریوں کو خاک و خون میں تڑپا دیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کھلم کھلا اعلان کر دیا ہے کہ سیز فائر صرف ایران اور امریکہ کے درمیان ہوا ہے، اسرائیل کے ساتھ ایران کا کوئی معاہدہ نہیں ہے اور اسرائیل جب چاہے ایران پر حملے کی طاقت رکھتا ہے اور یہ حملے جاری رہیں گے۔ نیتن یاہو نے ایران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر تہران کی انگلی ٹرگر پر ہے تو اسرائیل کی انگلی بھی ٹرگر پر ہے اور وہ اسرائیل کے لیے کسی بھی مستقل خطرے کو برداشت نہیں کریں گے۔ دوسری جانب ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر اسرائیل کی جارحیت بند نہ ہوئی تو وہ مذاکراتی عمل سے علیحدہ ہو جائے گا، جبکہ روس اور چین نے بھی اسرائیل کو کڑی وارننگ دی ہے کہ اگر ایران پر ایٹمی حملہ کیا گیا تو اس کا جواب اسرائیل پر ایٹمی حملے کی صورت میں دیا جائے گا۔ ایران نے تزویراتی طور پر ابنائے ہرمز اور باب المندب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے امریکہ کو پیغام دیا ہے کہ وہ 20 سال کی تیاری کے ساتھ اگلے 10 سال تک جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس خطرناک صورتحال میں اسلام آباد میں ہونے والی امن کی کوششیں ایک نازک موڑ پر پہنچ گئی ہیں جہاں اب سارا دارومدار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہے کہ وہ اپنے ضدی اتحادی کو لگام دیتے ہیں یا دنیا ایک ہولناک عالمی جنگ کی لپیٹ میں آ جاتی ہے۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button