"خبردار!لبنان پر کوئی سمجھوتا نہیں "ایران

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/جانو ڈاٹ پی کے)مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششیں ایک بار پھر شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہیں کیونکہ اسرائیل نے لبنان پر حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے جس کے نتیجے میں صرف 10 منٹ میں 300 سے زائد ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی حالیہ فون کال تاریخ کی تلخ ترین گفتگو ثابت ہوئی ہے جس میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کو سمجھانے کی کوشش کی کہ انہوں نے ایک بڑی ڈیل (نیوکلیئر فریز اور ابنائے ہرمز کی کشادگی) حاصل کر لی ہے، تاہم نیتن یاہو نے اسے ‘نامکمل فتح’ قرار دیتے ہوئے لبنان کو سیز فائر کا حصہ ماننے سے انکار کر دیا ہے۔
ایران نے اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران اور لبنان کا محاذ ایک ہے اور اگر لبنان پر حملے نہ رکے تو تہران تل ابیب پر براہ راست چڑھ دوڑے گا، جبکہ ابنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں اور وزیر اعظم شہباز شریف کے لبنان کو سیز فائر میں شامل کرنے کے بیان کے باوجود، اسرائیل کی ‘کولیٹو پنشمنٹ’ کی پالیسی نے امن عمل کو سبوتاژ کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی عالمی ساکھ اس وقت داؤ پر لگی ہوئی ہے کیونکہ وہ اپنے سب سے قریبی اتحادی اسرائیل کو لگام ڈالنے میں ناکام نظر آ رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی بادشاہتیں بھی اس وقت دباؤ کا شکار ہیں، تاہم یورپی ممالک نے پاکستان کی امن کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے لبنان میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔




