امریکاکا یوٹرن اور اسلام آباد مذاکرات پر منڈلاتی سازش

​اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/جانو ڈاٹ پی کے)مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے امریکہ نے ایک نئی اور خطرناک چال چل دی ہے جس سے اسلام آباد میں ہونے والے انتہائی اہم مذاکرات ایک بار پھر خطرات کی زد میں آگئے ہیں۔ تازہ ترین صورتحال کے مطابق امریکہ نے اچانک یہ موقف اپنایا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے سیز فائر اور مذاکراتی عمل میں لبنان شامل نہیں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کو لبنان پر حملوں کی کھلی چھٹی دی جا رہی ہے۔ اس امریکی یوٹرن نے ایران کو شدید برہم کر دیا ہے جس کے جواب میں ایران نے تزویراتی اہمیت کی حامل ابنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کے اشارے دے دیے ہیں جس سے عالمی تجارتی منڈی میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ مذاکرات میں تاخیری حربے استعمال کر کے اسرائیل کو اپنے اہداف حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہتا ہے جبکہ فرانس سمیت دیگر یورپی طاقتیں اس صورتحال پر سخت تشویش کا شکار ہیں اور انہوں نے واضح کیا ہے کہ لبنان کو شامل کیے بغیر خطے میں پائیدار امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ان تمام رکاوٹوں کے باوجود پاکستان اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے پرعزم ہیں تاہم ایک دن کی تاخیر نے کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ملک دشمن عناصر ان مذاکرات کی ممکنہ ناکامی پر خوشیاں منا رہے ہیں لیکن پاکستانی قیادت اس بات پر ڈٹی ہوئی ہے کہ خطے کا امن صرف جامع مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔

YouTube player

 

مزید خبریں

Back to top button