ایٹمی جنگ کا خطرہ!اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان فیصلہ کن معرکہ

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ /جانو ڈاٹ پی کے)دنیا کی نظریں وفاقی دارالحکومت پر جمی ہوئی ہیں جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی مذاکرات کے لیے دونوں ممالک کا اعلیٰ سطح کا سکیورٹی اور معاون عملہ پہنچ چکا ہے جبکہ قطر سے خصوصی طیاروں کے ذریعے امریکی نائب صدر کی ایٹم بم پروف گاڑی بھی پاکستان منتقل کر دی گئی ہے۔ اس انتہائی حساس صورتحال کے پیش نظر جڑواں شہروں میں دو روزہ عام تعطیل کا اعلان کرتے ہوئے فوج اور رینجرز نے سکیورٹی کے فرائض سنبھال لیے ہیں اور ٹرپل ون بریگیڈ کو الرٹ رکھا گیا ہے۔ ایرانی صدر مادی پزیشکیان کی قیادت میں وفد کی آمد متوقع ہے لیکن دوسری جانب اسرائیل ان مذاکرات کو ناکام بنانے کے لیے مسلسل سازشیں کر رہا ہے اور لبنان پر وحشیانہ بمباری کے ذریعے اشتعال انگیزی پھیلا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کھلی دھمکی دی ہے کہ ان کا ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا اور اگر ضرورت پڑی تو وہ امریکہ کی مرضی کے بغیر بھی براہ راست حملہ کر سکتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات میں حتمی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے خلاف پہلے سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی جائے گی۔ اس وقت پوری دنیا کی امن و سلامتی ان مذاکرات کی کامیابی سے جڑی ہوئی ہے کیونکہ روج و چین نے بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران پر ایٹمی حملہ ہوا تو اسرائیل کو بھی اسی نوعیت کے جوابی حملے کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے عالمی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔




