ایران، امریکا مذاکرات کیلئے سخت سکیورٹی انتظامات، ریڈ زون فوج کے حوالے

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے\ ویب ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان مذاکراتی عمل دس اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہو رہا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ان مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے دونوں ملکوں کے وفود اور سکیورٹی عملہ پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ایرانی مذاکراتی وفد کی سربراہی ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے جبکہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر پر مشتمل امریکی وفد مذاکرات میں حصہ لے گا۔
اس موقع پر اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی کی انتظامیہ نے دو دن کی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔
اس مذاکراتی عمل میں حصہ لینے والے افراد کو ریڈ زون میں واقع ایک فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھہرایا جا رہا ہے، ضلعی انتظامیہ نے ریڈ زون کی حدود پھیلا کر زیرو پوائنٹ سے لے کر فیصل مسجد تک کے علاقے کو اس میں شامل کر لیا ہے۔
ریڈ زون میں پارلیمنٹ ہاؤس، ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس کے علاوہ ڈپلومیٹک انکلیو بھی واقع ہے جہاں مختلف ملکوں کے سفارت خانے موجود ہیں۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق ریڈ زون کا سکیورٹی کنٹرول فوج کے پاس ہوگا جبکہ رینجرز اور پولیس کے اہلکار بھی وہاں پر تعینات ہوں گے۔
سکیورٹی کے نقطہ نظر سے ریڈ زون میں صرف سرکاری گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہے جبکہ ریڈ زون میں واقع وفاقی وزارتوں میں کام کرنے والے افراد کو کہا گیا ہے کہ وہ اس عرصے کے دوران اپنے گھروں سے ہی ڈیوٹی کریں۔
جڑواں شہروں میں تعطیل کی وجہ سے سکول اور کالجز بند ہیں جبکہ سپریم کورٹ، وفاقی آئینی عدالت، اسلام آباد ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں مقدمات کی سماعت نہیں ہو گی۔
اسلام آباد کے لیے خصوصی ٹریفک پلان بھی ترتیب دے دیا گیا ہے جس کے مطابق شہر میں ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے، اسلام آباد ہائی وے اور سرینگر ہائی وے کو اس وقت کچھ دیر کے لیے بند کر دیا جائے گا جب غیر ملکی وفود ایئر پورٹ سے ہوٹل کی طرف جائیں گے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی رہائی کے لیے آج راولپنڈی میں کیا جانے والے احتجاجی جلسہ کو منسوخ کر دیا ہے، پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ احتجاجی جلسے کی نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے مطابق پانچ یا پانچ سے زیادہ افراد کے ایک جگہ اکھٹا ہونے پر پابندی ہے۔
خیال رہے کہ اس مذاکراتی عمل کی کوریج کے لیے انٹرنیشنل میڈیا نمائندے بھی پاکستان پہنچ رہے ہیں، مختلف ممالک سے پچاس سے زیادہ صحافیوں نے ویزے کے لیے درخواستیں دی ہیں، مذاکراتی عمل کی کوریج کے حوالے سے کنونشن سینٹر یا پاک چائنہ سینٹر میں انتظامات کیے جانے کا امکان ہے۔



