ایران کے ساتھ ٹیرف اور پابندیوں میں نرمی پر مذاکرات جاری ہیں،ٹرمپ

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)صدر ٹرمپ نے اپنی حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ پر ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے اور بھرپور تعاون کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ ٹروتھ سوشل پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مل کر کام کرے گا کیوں کہ ایران میں مفید رجیم چینج ہوچکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ یورینیم کی کوئی افزودگی نہیں ہوگی اور امریکا، ایران کے ساتھ مل کر زمین کی گہرائی میں دفن (B-2 بمبار طیاروں سے متعلق) ایٹمی ذرات کو نکال کر ہٹا دے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ مواد اب بھی اور پہلے بھی انتہائی سخت سیٹلائٹ نگرانی (اسپیس فورس) میں رہا ہے۔ ہم نے حملے کے دن سے اب تک کسی چیز کو نہیں چھیڑا گیا۔
امریکی صدر نے انکشاف کا کہ ہم ایران کے ساتھ ٹیرف اور پابندیوں میں نرمی پر بات چیت کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ ٹیرف اور پابندیوں میں نرمی پر بھی بات کرے گا اور 15 نکات میں سے کئی پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے۔
اس جنگ کا آغاز امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایک ایسے حملے سے شروع کیا تھا جس میں آیت اللہ خامنہ ای، وزیر دفاع، آرمی چیف، پاسداران انقلاب کے سربراہ اور مشیر قومی سلامتی شہید ہوگئے تھے۔
جس کے جواب میں خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا اور آبِنائے ہرمز کو بند کردیا جس سے دنیا میں پیٹرول کی قلت پیدا ہوگئی اور قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگی تھیں۔
جس کے بعد گزشتہ روز صدر ٹرمپ کی ڈیڈلائن ختم ہونے پر امریکا اور ایران دو ہفتوں کی جنگ بندی پر متفق ہوگئے تھے جس کے دوران امریکا حملے بند کردے گا جب کہ ایران آبنائے ہرمز کھول دے گا۔



