تیسری عالمی جنگ کے لیےجاپان کے ‘وار ریزرو’ کھل گئے ؛میکرون کا ہنگامی دورہ

نہال معظم
عالمی سیاست کے افق پر اس وقت جو ہیبت ناک بادل منڈلا رہے ہیں ان کی تپش پیرس سے ٹوکیو تک محسوس کی جا رہی ہے اور صدر ایمانوئل میکرون کا حالیہ دورہ جاپان محض ایک رسمی سفارتی دورہ نہیں بلکہ ایک عالمی معاشی جنگ کے سائرن بجنے کی اطلاع ہے۔ اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو اس وقت دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں مشرقِ وسطیٰ میں لگی آگ اب جاپان کے صنعتی شہروں کے چولہے ٹھنڈے کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ جاپانی وزیر اعظم سانای تاکایچی کے ساتھ میکرون کی یہ طویل ملاقات اس سنسنی خیز حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ دنیا کی شہ رگ کہلانے والی آبنائے ہرمز اب ایک ایسے بارود کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہے جس کی چنگاری ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی حالیہ براہِ راست تصادم کی لہروں سے نکل رہی ہے۔ سنسنی خیزی اس وقت عروج پر پہنچ جاتی ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جاپان جیسا پرامن اور محتاط ملک، جو جنگوں سے دور رہنے کی تاریخ رکھتا ہے، اچانک اپنی بحری حدود سے نکل کر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے جیسے خطرناک فوجی آپریشنز میں تعاون کی بات کر رہا ہے۔ یہ کوئی عام فیصلہ نہیں بلکہ ایک ایسی بڑی تبدیلی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ عالمی طاقتیں پسِ پردہ کسی بہت بڑے معرکے کی تیاری کر رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جاپان اپنی ضرورت کا پچانوے فیصد تیل خلیجی ممالک سے منگواتا ہے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی نے ٹوکیو کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر رکھا ہے، اسی لیے جاپان نے اپنے وہ ہنگامی تیل کے ذخائر مارکیٹ میں جھونکنے کا فیصلہ کیا ہے جو صرف اور صرف تیسری عالمی جنگ جیسی صورتحال کے لیے بچا کر رکھے گئے تھے۔ یہ اقدام خود اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ عالمی معیشت اس وقت آئی سی یو میں ہے اور کوئی بھی غلط قدم پوری دنیا کو ایک ایسے معاشی بلیک ہول میں دھکیل سکتا ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہوگی۔ صدر میکرون کا یورپ سے ہزاروں میل دور ٹوکیو پہنچنا اسٹریٹجک لحاظ سے اس لیے بھی سنسنی خیز ہے کیونکہ فرانس اس وقت نیٹو اور ایشیا کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اگر خلیج میں بحری جہازوں کی آمد و رفت رکی تو متبادل راستوں اور دفاعی اقدامات کو فوری طور پر فعال کیا جا سکے۔ اس ملاقات کے بند کمرہ اجلاسوں سے جو خبریں باہر آ رہی ہیں وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ فرانس اور جاپان اب صرف بیانات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایران کے خلاف ایک نیا عالمی بلاک بننے جا رہا ہے جو سمندری راستوں کی آزادی کے نام پر کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ ایک طرف ایٹمی توانائی اور خلائی ٹیکنالوجی میں تعاون کے پرکشش وعدے کیے جا رہے ہیں لیکن ان کے پیچھے چھپی اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں ممالک ایران کے ایٹمی پروگرام اور خطے میں اس کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے ایک خفیہ اسٹریٹجک روڈ میپ تیار کر چکے ہیں۔ سب سے زیادہ حیران کن اور کسی فلمی منظر جیسی بات وہ ہے جب ان سنگین حالات اور ایٹمی جنگ کے خطرات کے سائے میں دونوں لیڈروں نے پریس کانفرنس کے دوران ایک مشہور جاپانی اینیمے کے ایکشن کو دہرایا، جو بظاہر ایک ہلکا پھلکا لمحہ تھا لیکن تجزیہ کار اسے ایک علامتی اشارہ قرار دے رہے ہیں کہ دونوں ممالک بڑی سے بڑی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں۔ میکرون اور تاکایچی کی یہ بیٹھک محض فوٹو سیشن نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کا وہ نیا کھیل ہے جس کا مرکز ایران ہے اور جس کی قیمت دنیا بھر کے عوام کو پٹرول کی قیمتوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی صورت میں چکانی پڑ سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ سفارت کاری آبنائے ہرمز کے بند ہوتے ہوئے دروازوں کو کھول پائے گی یا پھر یہ ملاقات کسی بڑے عالمی تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہوگی، کیونکہ جب جاپان جیسے خاموش ملک اپنے وار ریزرو استعمال کرنا شروع کر دیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے اور دنیا ایک بہت بڑے اور خطرناک امتحان کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس پوری صورتحال میں فرانس کا کردار ایک ایسے مصالحت کار کا ہے جو ایک ہاتھ میں ایٹمی معاہدوں کی فائل اور دوسرے ہاتھ میں دفاعی تعاون کا نقشہ لیے ایشیا کی سب سے بڑی معیشت کو بچانے نکلا ہے، مگر ایران کا سخت گیر لہجہ اور آبنائے ہرمز پر اس کی گرفت اس سنسنی خیز ڈرامے کو ایک ایسے انجام کی طرف لے جا رہی ہے جہاں صرف طاقت کا توازن ہی بقا کا واحد راستہ بچا ہے۔



