تہران میں اسرائیلی فضائی حملہ، قدیم یہودی عبادت گاہ تباہ

 نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)اسرائیل کے فضائی حملوں میں ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع ایک قدیم یہودی عبادت گاہ (سینیگاگ) تباہ ہوگئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے یہ فضائی حملہ رات کے وقت کیا جس کے نتیجے میں یہودی عبادت گاہ مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گئی۔

یہودی عبادت گاہ کے ملبے سے عبرانی زبان میں مذہبی متون اور مقدس کتب بھی بکھری ہوئی ملیں جبکہ ایرانی ہلالِ احمر کے اہلکاروں نے تورات کے نسخے بھی ملبے سے نکالے۔

ایرانی پارلیمنٹ میں یہودی برادری کے نمائندے ہمایوں سامع نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ صہیونی حکومت نے یہودی برادری کو ان کے مذہبی تہواروں کے دوران بھی نہیں بخشا اور ہماری ایک قدیم اور مقدس عبادت گاہ کو نشانہ بنایا۔

انھوں نے مزید کہا کہ عبادت گاہ کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور تورات کے صحیفے ملبے تلے دب گئے۔ یہ بہت رنج اور تکلیف دہ بات ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ہدف ایران کی اعلیٰ سطحی مشترکہ فوجی کمانڈ میں موجود ایک سینئر کمانڈر تھا۔

اسرائیلی فوج نے عبادت گاہ کو پہنچنے والے نقصان کو کولیٹرل ڈیمیج قرار دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ ایران میں صدیوں پرانی یہودی برادری آباد ہے جس کی تعداد ہزاروں میں ہے اور یہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے باہر سب سے بڑی یہودی آبادیوں میں شمار ہوتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button