بدین: سیف سندھ ریبیز پروگرام کے تحت ماسٹر ٹرینرز کی پانچ روزہ تربیت کامیابی سے مکمل

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ ڈاٹ/پی کے)سیف سندھ ریبیز پروگرام ماسٹر ٹرینرز کی تربیت کامیابی سے مکمل سندھ میں ریبیز کے خاتمے کے لیے دو سو سے زائد افراد کو ٹریننگ دی جائے گی۔ پروگرام قیمتی جانوں کے تحفظ کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہوگی ڈاکٹر عبدالباری خان تفصیل کے مطابق سیف سندھ ریبیز پروگرام، جو حکومتِ سندھ اور انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کا مشترکہ منصوبہ ہے، جس کے تحت ماسٹر ٹرینرز کی پہلی پانچ روزہ تربیت کامیابی سے مکمل ہو گئی ہے یہ تربیت بیک وقت انڈس یونیورسٹی ہسپتال کراچی کے ریبیز ٹریننگ سینٹر اور ڈاکٹر سکندر علی میند ھرو سول ہسپتال بدین میں منعقد کی گئی، جس کا مقصد صوبے میں ریبیز سے بچاؤ اور بروقت علاج کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے اس پروگرام کا بنیادی ہدف ایک مؤثر اور مربوط نظام قائم کرنا ہے تاکہ ریبیز سے ہونے والی اموات کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ اسی مقصد کے تحت پروگرام میں نگرانی، عوامی آگاہی، مفت حفاظتی علاج اور ہنگامی سہولیات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ پانچ روزہ تربیت کے دوران کراچی اور حیدرآباد کے 10 ہسپتالوں سے تعلق رکھنے والے 22 طبی ماہرین نے شرکت کی، جہاں انہیں بنیادی معلومات کے ساتھ ساتھ عملی تربیت بھی فراہم کی گئی۔ اس پروگرام کے تحت 200 مزید طبی ماہرین کو ٹریننگ دی جائیگی تربیت کا آغاز ابتدائی سیشنز سے ہوا، جہاں انڈس ہسپتال کے صدر ڈاکٹر عبدالبرّی خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ریبیز ایک قابلِ بچاؤ مگر خطرناک بیماری ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ایک منظم اور مؤثر نظام ناگزیر ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نے پاکستان میں ریبیز کی موجودہ صورتحال پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور شرکاء کو متاثرہ افراد کے بروقت اور درست علاج کے طریقہ کار سے آگاہ کیا، جس سے تربیت کے اگلے مراحل کے لیے واضح سمت فراہم ہوئی اس تربیتی پروگرام کی نگرانی محمد آفتاب گوہر، منیجر ریبیز ٹریننگ سینٹر، انڈس یونیورسٹی ہسپتال کراچی نے کی، جنہوں نے بطور تکنیکی ماہر پورے پروگرام کے دوران ماسٹر ٹرینرز کی رہنمائی اور تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی زیر نگرانی شرکاء کو جدید اور معیاری طریقوں کے مطابق تربیت دی گئی تاکہ وہ عملی میدان میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں
ٹریننگ کے دوسرے دن کا زیادہ تر حصہ عملی سیکھنے پر مشتمل تھا جہاں کراچی اور بدین دونوں مراکز پر شرکاء کو زخموں کی صفائی، درجہ بندی، مریض کا معائنہ اور خطرات کا جائزہ لینے کی تربیت دی گئی۔ اسی کے ساتھ انہیں ریبیز سے بچاؤ کے ٹیکوں اور ادویات کے درست استعمال کے بارے میں بھی سکھایا گیا، جبکہ مریضوں کی رہنمائی اور مکمل ریکارڈ رکھنے پر بھی بھرپور توجہ دی گئی تاکہ علاج کا معیار بہتر بنایا جا سکے تربیت کے دوران شرکاء نے حقیقی حالات میں کام کرتے ہوئے اپنی عملی مہارتوں کو مزید مضبوط کیا، جس سے ان کی فیصلہ سازی کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا۔ چوتھے دن تک شرکاء اس قابل ہو گئے کہ وہ اعتماد کے ساتھ خود مریضوں کا معائنہ اور علاج کر سکیں، جبکہ ماہرین مسلسل ان کی کارکردگی کا جائزہ لیتے رہے تاکہ ہر فرد مطلوبہ معیار پر پورا اتر سکے آخر میں، پانچویں دن تربیت کی کامیاب تکمیل پر دونوں مراکز میں شرکاء کو اسناد دی گئیں، جس کے ساتھ یہ مرحلہ اختتام پذیر ہوا۔ اب یہ تربیت یافتہ ماہرین نہ صرف خود معیاری طبی خدمات فراہم کریں گے بلکہ اپنے اپنے علاقوں میں دیگر طبی عملے کو بھی تربیت دیں گے، جس سے سندھ بھر میں ریبیز کے علاج اور بچاؤ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی تربیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مربوط منصوبہ بندی اور مؤثر تربیت کے ذریعے نہ صرف طبی عملے کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ عوام کو بہتر اور بروقت علاج کی سہولت بھی فراہم کی جا سکتی ہے۔ سیف سندھ ریبیز پروگرام اسی عزم کا مظہر ہے کہ معاشرے کو محفوظ بنایا جائے اور کسی بھی انسان کی جان ایک قابلِ بچاؤ بیماری کی وجہ سے ضائع نہ ہو



