پیر پاگاروکی نجی دورے پر ڈہرکی آمد، مریدوں اور رہائشیوں کا شانداراستقبال، سکیورٹی کے سخت انتظامات

ڈہرکی (رپورٹ: وجے کمار چاولہ)حر جماعت کے روحانی پیشوا حضرت پیر سائیں پاگارو اپنے نجی دورے پر ڈہرکی پہنچ گئے، جہاں ان کی آمد پر مریدوں، عقیدت مندوں اور علاقے کے رہائشیوں کی جانب سے شاندار اور پرتپاک استقبال کیا گیا۔ شہر کے داخلی راستوں سے لے کر مختلف مقامات تک لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی اور اپنے پیشوا سے عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے پھول نچھاور کیے گئے جبکہ “جیئے پاگارو” کے نعرے بھی بلند کیے گئے۔

اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات بھی کیے گئے تھے۔ پیر سائیں پاگارو نے اپنے دورے کا آغاز سابق صوبائی وزیر لائیو اسٹاک اینڈ فشریز عبدالباری خان پتافی کی رہائش گاہ پر پہنچ کر کیا، جہاں میزبان کی جانب سے ان کا پرتکلف استقبال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران علاقے کے سیاسی، سماجی اور فلاحی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیات بھی موجود تھیں، جنہوں نے پیر سائیں سے ملاقات کرکے دعائیں حاصل کیں۔ بعد ازاں پیر سائیں پاگارو نے عبدالباری خان پتافی کے کیٹل فارم کا دورہ کیا، جہاں انہیں مویشی پالنے اور جدید فارمنگ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔پیر سائیں پاگارو نے زرعی اور مالداری کے شعبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی معیشت میں اس شعبے کا بنیادی کردار ہے، اور اس کی ترقی سے نہ صرف روزگار کے مواقع بڑھیں گے بلکہ دیہی علاقوں کے لوگوں کی زندگی بھی بہتر ہو سکے گی۔

بعد ازاں پیر سائیں پاگارو گاؤں فقیر غلام قادر پنہیار میں فقیر مٹھل پنہیار کے پاس پہنچے، جہاں بھی مریدوں اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ذرائع کے مطابق پیر سائیں اپنے دورے کے دوران علاقے کے مختلف مقامات پر مختصر ملاقاتیں بھی کریں گے۔مزید برآں پیر سائیں پاگارو صبح کے وقت راجا فارم پر منعقد ہونے والی دعوت میں شرکت کریں گے، جہاں دعوتِ دولہو فقیر میں خلیفہ علی اکبر مہر لونگانی ان کا استقبال کریں گے۔ اس تقریب میں علاقے کے سیاسی و سماجی رہنماؤں سمیت مریدوں کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔یہ نجی دورہ نہ صرف روحانی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے بلکہ اس سے علاقے میں سماجی ہم آہنگی، بھائی چارے اور باہمی روابط کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ پیر سائیں پاگارو کی آمد سے علاقے میں خوشی اور جوش کی فضا قائم ہے جبکہ مریدوں کے لیے یہ دورہ بڑی سعادت سمجھا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button