ایٹمی مواد کی منتقلی اور اسرائیل کی سازش: ایران، امریکہ مذاکرات کی اندرونی کہانی

​اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)​امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بیک چینل مذاکرات میں سنسنی خیز پیش رفت اور اسرائیل کی جانب سے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کی تحریری ضمانت کے ساتھ ساتھ اپنا 450 کلو گرام افزودہ یورینیم پاکستان کے حوالے کرنے کی بڑی پیشکش کی تھی جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی شدید دلچسپی کا اظہار کیا۔ پاکستان اس وقت عالمی سیاست کا محور بنا ہوا ہے اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے طویل ٹیلیفونک گفتگو کے بعد پاکستان ان مذاکرات میں ڈرائیونگ سیٹ پر آگیا تھا۔ تاہم اسرائیل نے مذاکراتی ٹیم میں شامل اہم ایرانی شخصیات کو نشانہ بنا کر اس عمل کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں کمال خرازی شہید ہو گئے اور مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔ اس نازک صورتحال میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی پاکستان کو ایران کی طرف جھکاؤ پر سخت پیغام موصول ہوا ہے اور معاشی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن پاکستان نے اپنے اصولی موقف پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب بھارت کی جانب سے بھی سرحدی چھیڑ چھاڑ اور فالس فلیگ آپریشنز کا خطرہ منڈلا رہا ہے جس کے جواب میں پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ پاکستان اس وقت تاریخ کے سب سے بڑے سفارتی امتحان سے گزر رہا ہے جہاں وہ دوستوں اور دشمنوں کے دباؤ کے باوجود خطے میں امن کے لیے پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔

​اس حوالے سے مزید سنسنی خیز تفصیلات اور تجزیہ جاننے کے لیے معظم فخر کا وی لاگ مکمل دیکھیں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button