حکومت سندھ کا عوامی ریلیف: ٹارگٹڈ پبلک ٹرانسپورٹ سبسڈی پروگرام حتمی شکل اختیار کر گیا

کراچی (جانوڈاٹ پی کے) حکومت سندھ نے عوام کو ریلیف دینے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں استحکام کے لیے ٹارگٹڈ پبلک ٹرانسپورٹ سبسڈی پروگرام کو حتمی شکل دے دی ہے۔
سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ سیکٹر شدید دباؤ میں تھا، جس کے حل کے لیے حکومت نے “ٹارگٹڈ فیول ڈیفرینشل سبسڈی” متعارف کرائی ہے تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
انہوں نے بتایا کہ اسکیم کے تحت ٹرانسپورٹرز کو ماہانہ مالی معاونت فراہم کی جائے گی، لیکن انہیں کرایوں میں اضافہ نہ کرنے اور حکومتی قوانین کی پابندی کرنا لازمی ہوگا۔
انٹرا سٹی ٹرانسپورٹ کے لیے بس، منی بس اور کوچز کو ماہانہ 2 لاکھ 40 ہزار روپے تک سبسڈی، ویگنز کو 2 لاکھ 30 ہزار روپے اور سوزوکی پک اپ کو 60 ہزار روپے تک سبسڈی دی جائے گی۔
انٹر سٹی بسوں کو روٹ کے حساب سے ماہانہ 12 لاکھ روپے تک سبسڈی دی جائے گی، جبکہ ویگنز کے لیے فاصلے کے مطابق 1 لاکھ 80 ہزار سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک سبسڈی مختص ہوگی۔
اسکیم 9,000 سے زائد انٹرا سٹی اور 1,100 انٹر سٹی گاڑیوں پر لاگو ہوگی، جس سے ماہانہ تقریباً 5 کروڑ 70 لاکھ مسافروں کو فائدہ پہنچے گا۔
سبسڈی پر ماہانہ تقریباً 2.2 ارب روپے خرچ ہوں گے، اور فی مسافر اوسطاً 38 روپے کا ریلیف دیا جائے گا۔
شفافیت اور نگرانی
پروگرام میں مکمل ڈیجیٹل اور ایپ بیسڈ نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
رجسٹریشن، تصدیق اور ادائیگیاں سندھ بینک کے ذریعے براہ راست کی جائیں گی۔
ڈیجیٹل نظام کو ایکسائز، آر ٹی اے اور پی ٹی اے کے ڈیٹا سے منسلک کیا جائے گا۔
باقاعدہ انسپیکشن اور مسافروں کی فیڈبیک کے ذریعے سروس کے معیار کو بہتر بنایا جائے گا۔
مزید اقدامات
دفاتر کے اوقات کار میں 15 اپریل تک توسیع دی گئی تاکہ زیادہ سے زیادہ رجسٹریشن ممکن ہو۔
ایکسائز میں رجسٹرڈ ہر موٹر سائیکل مالک کو 2,000 روپے فیول سبسڈی فراہم کی جائے گی۔
حکومت سندھ کے اس اقدام سے نہ صرف کرایوں میں استحکام آئے گا بلکہ شہریوں پر مالی بوجھ کم ہوگا اور نجی گاڑیوں کے بے جا استعمال کی حوصلہ شکنی بھی ہوگی۔



