ایران پر مسلط کردہ غیر قانونی جنگ کا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے،بلاول بھٹوزرداری

لاڑکانہ (رپورٹ: احسان جونیجو/نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائدِ عوام کی جانب سے قوم کو دیا گیا جوہری پروگرام کا تحفہ آج بھی پاکستان کا دفاع کر رہا ہے، اور کوئی دشمن ارضِ پاک کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جراَت بھی نہیں کرسکتا۔ پی پی پی چیئرمین نے ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے 47 ویں یوم شہادت پر گڑھی خدابخش میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اِس وقت نہ صرف ملک کے اندر، بلکہ عالمی سطح پر بھی بھٹو شہید جیسی قیادت کی کمی اور بحران کو محسوس کیاجا رہا ہے۔  انہوں نے کہا کہ خطے میں جنگ کی صورتحال اور ہمسایہ ملک ایران میں آیت اللہ خامنہ ای اور  اسکول پر بمباری کے نتیجے میں معصوم طالبات کی شہادتوں کے غم اور اُنکے احترام میں اِس بار قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر بڑے جلسہ عام کا انعقاد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ جنگ کے خلاف اور امن کی حامی جماعت ہے، اور یہ جو غیر قانونی جنگ شروع کی گئی ہے، ہم ہر پاکستانی کی طرح اُس کی مذمت کرتے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ امریکا-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے نقصانات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں اور اُس کے اثرات ہر پاکستانی بھی محسوس کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی مہنگائی اور بے روزگاری کا بوجھ دنیا بھر کی غریب عوام کی طرح پاکستان میں بھی غریب شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم نے پہلے بھی مشکل ترین حالات کا مقابلہ کیا ہے اور ہم اب بھی متحد ہوکر مشکل صورتحال کا سامنا کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ کچھ قوتیں نفرت اور تقسیم کی سیاست پر یقین رکھتی ہیں، لیکن پیپلزپارٹی نے ہمیشہ قوم کو متحد کیا اور ہم اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ ہم قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے شکرگذار ہیں، جنہوں نے جوہری پروگرام کی بنیاد رکھ کر پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنایا، جس کی وجہ سے آج کوئی دشمن ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جراَت نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کو ایٹمی بم کا تحفہ دینے کی قیمت قائدِ عوام شہید ذوالفقار بھٹو کو اپنی شہادت قبول کرکے چُکائی۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو شہید نے اپنی جان تو قربان کردی، لیکن انہوں نے امت مسلمہ کو جوہری طاقت دلوائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج امت مسلمہ میں تقسیم کی صورتحال دیکھ کر قائدِ عوام بھٹو شہید کی کمی محسوس ہوتی ہے، جنن کی قیادت میں پوری اسلامی دنیا کی قیادت لاہور میں اکٹھا ہوگئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو شہید کو صرف پاکستان نہیں، بلکہ پوری امت مسلمہ کا لیڈر مانا جاتا تھا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ حکومتِ پاکستان سمیت اُن سب کیلیئے دعاگو ہیں جو خطے میں جاری جنگ کے خاتمے کیلیئے کوشاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں جنگی حالات کی وجہ سے جو معاشی خطرات درپیش ہیں، اُس سے پہلے عوام نے نہیں دیکھے۔ انہوں نے کہا کہ عوام جانتے ہیں کہ اِس جنگ میں پاکستان کا قصور نہیں ہے، اور عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ جو قوتیں یہ جنگ چھیڑ رہی ہیں اُنکے ارادے کیا ہیں۔  انہوں نے کہا کہ ہمارے عوام موجود مشکل حالات میں سننا چاہتے ہیں کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت اُنکے لیئے کیا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ صوبائی حکومت کے کتنے وسائل ہیں اور وفاقی حکومت کو بھی کِن کِن مشکلات کاسامنا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چیلنجز کے باوجود ہم نے بہت محنت کی ہے، اور  تمام صوبوں  نے مِل کر کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عید کے موقع پر لاڑکانہ میں وفاقی وزراء کے ایک وفد نے انہیں  بریفنگ میں بتایا تھا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے حکومت تیل پر بلنکٹ سبسڈی فراہم کر رہی ہے، لیکن اپریل  میں اسے جاری رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ  ایسے حالات میں صوبائی حکومتیں بھی اپنے اپنے  بجٹ میں  کٹوتی کرکے عوام کو ریلیف سینے والے اقدامات میں حصہ ملانے کے لیئے تیار ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ   وفاقی حکومت کیلیے ممکن نہیں ہے کہ وہ بلینک سبسڈی جاری رکھ سکے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ نے بینظیر ہاری کارڈ کے ذریعے چھوٹے  کسانوں کی مالی مدد کرے گی۔

مزید خبریں

Back to top button