بدین میں قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی47ویں برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ ڈاٹ/ پی کے)بدین میں قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی47ویں برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 47ویں برسی ملک بھر کی طرح ضلع بدین میں بھی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرپرسن آ صف علی زرداری کی ہدایات پر بدین میں مرکزی تقریب بدین کے مرکزی ہال میں منعقد ہوئی، جہاں قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا اور شہید بھٹو کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔ تقریب میں سیاسی و سماجی رہنماؤں، پارٹی کارکنوں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے ایم این اے حاجی رسول بخش چانڈیو، ایم این اے میر غلام علی ٹالپر، صوبائی وزیر برائے یونیورسٹیز و بورڈ محمد اسماعیل راہو، وزیر اعلیٰ سندھ کی معاون خصوصی ایم پی اے اور شعبہ خواتین کی ضلعی صدر ام حبیبہ تنزیلہ قمبرانی وزیر اعلیٰ سندھ کے ترجمان عبدالواحد ہالیپوتہ، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سجاد علی چانڈیو، صدر پیپلز پارٹی تعلقہ بدین ایم پی اے حاجی تاج محمد ملاح، ایم پی اے تلهار میر اللہ بخش ٹالپر، ایم پی اے ٹنڈو باگو ارباب امیر امان اللہ، ایم پی اے ماتلی کے کوآرڈینیٹر محمد صالح ہالیپوتہ، ایم پی اے بی بی یاسمین شاہ، وائس چیئرمین ضلع کونسل فدا حسین مندهرو، صدر یوتھ ونگ خان صاحب جمالی، جنرل سیکریٹری ڈپٹی اطلاعات سیکریٹری حاجی میر ملاح، ڈاکٹر دودو مہیری، عبدالغفور نظاماڻي اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو ایک عظیم مدبر، بہادر رہنما اور عوامی سیاستدان تھے جنہوں نے ملک کو آئین دیا اور عوام کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا حوصلہ دیا انہوں نے کہا کہ شہید بھٹو 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے اور اپنی سیاسی زندگی کے دوران پاکستان کو ایک مضبوط آئین (1973 کا آئین) دیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور مزدوروں، کسانوں اور غریب طبقے کے لیے اہم اقدامات کیے۔ ان کا نعرہ "روٹی، کپڑا اور مکان” آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہے مقررین نے کہا کہ 4 اپریل 1979 کو شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے کر شہید کیا گیا، مگر ان کا نظریہ اور جدوجہد آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہید بھٹو نے پاکستان کی خودمختاری اور دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے تاریخی فیصلے کیے۔ انہوں نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھتے ہوئے عزم ظاہر کیا تھا کہ "ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے”، جو ان کی قومی غیرت، خودداری اور مضبوط ارادے کی عکاسی کرتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ شہید بھٹو نے عالمی سطح پر بھی پاکستان کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑا، خاص طور پر اقوام متحدہ میں ان کی تاریخی اور جذباتی تقریر آج بھی یاد کی جاتی ہے، جس میں انہوں نے عالمی طاقتوں کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی ناانصافی کو قبول نہیں کرے گا



