خلیج میں 6 روسی ایٹمی آبدوزوں کی تعیناتی: تیسری عالمی جنگ قریب !

​نیویارک/تہران(خصوصی رپورٹ \جانو ڈاٹ پی کے)​مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران، امریکہ اور اسرائیل جنگ ایک نہایت خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں روس نے ایران کی کھلم کھلا حمایت کا اعلان کرتے ہوئے خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں اپنی 6 جدید ترین ایٹمی آبدوزیں تعینات کر دی ہیں۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس اقدام کے بعد ایران اب باقاعدہ طور پر روس کی ‘نیوکلیئر امبریلا’ (ایٹمی چھتری) کے نیچے آ گیا ہے، جو امریکی اور اسرائیلی بحری بیڑوں کے لیے براہِ راست چیلنج ہے۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے ابنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو طاقت کے زور پر کھلوانے کے لیے فوجی کارروائی کی قرارداد پیش کی گئی ہے، جس کی روس اور فرانس نے سخت مخالفت کی ہے۔

​تجزیہ کار معظم فخر کے مطابق، صورتحال اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں معمولی سی غلطی تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران اور کرج کو ملانے والے ایک اہم پل کی تباہی کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ایران کو ‘پتھر کے دور’ میں بھیجنے کی دھمکی دی ہے، تاہم ایران نے دوٹوک موقف اختیار کیا ہے کہ جب تک اس کے خلاف جارحیت بند نہیں ہوتی اور نقصانات کا ازالہ نہیں کیا جاتا، ابنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔ ادھر لبنان سے حزب اللہ نے اسرائیل پر ایک ہزار راکٹ برسا کر اور یمن کے حوثیوں نے ابنائے باب المندب کو بند کرنے کی دھمکی دے کر جنگ کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا ہے۔ چین کی خاموشی اور تائیوان کی صورتحال بھی عالمی امن کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ اس سنگین صورتحال پر معظم فخر کا مکمل تجزیہ یہاں ملاحظہ کریں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button