پٹرول بم کے خلاف ملک گیراحتجاجی تحریک اور 4 اپریل کی تاریخی اہمیت!

​کراچی/اسلام آباد( خصوصی رپورٹ \جانو ڈاٹ پی کے)​پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے خلاف ایک نئی احتجاجی تحریک کا بگل بجا دیا گیا ہے۔ سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ سید زین شاہ نے حکومت کو دو ماہ پرانی قیمتیں بحال کرنے کے لیے تین دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر مطالبہ پورا نہ ہوا تو یہ احتجاج حکومت کے خاتمے کی تحریک میں بدل جائے گا۔ دوسری جانب، وفاقی وزراء اور حکومتی ترجمان اس اضافے کا دفاع کرتے ہوئے اسے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور ایران جنگ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ قیمتوں پر عائد بھاری ٹیکسز اور لیوی عوام کی کمر توڑ رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس کی واپسی کے مطالبے نے بھی حکومت کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد اب آئی ایم ایف کی شرائط پر سخت فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

​آج 4 اپریل کی تاریخ پاکستان کے لیے ایک سیاہ دن کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ آج ہی کے دن 1979 میں ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی قتل کے ذریعے شہید کیا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھٹو ایک ایسے ویژنری لیڈر تھے جنہوں نے اس وقت ہی مسلم ممالک کو ‘تیل’ بطور ہتھیار استعمال کرنے کا مشورہ دیا تھا، جس پر آج ایران عمل پیرا نظر آتا ہے۔ اگر بھٹو پاکستان کو ایٹمی طاقت نہ بناتے تو آج ملک کا دفاع اس قدر ناقابلِ تسخیر نہ ہوتا۔ اسی طرح محترمہ بے نظیر بھٹو کی میزائل ٹیکنالوجی اور نواز شریف کے ایٹمی دھماکوں نے پاکستان کو عالمی نقشے پر ایک مضبوط قوت کے طور پر منوایا۔ موجودہ سیاسی بحران، مہنگائی کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں اور بھٹو کی برسی کے حوالے سے امداد سومرو کا یہ خصوصی تجزیہ اور وی لاگ ملاحظہ کریں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button