صدر آصف زرداری کا شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 47ویں برسی پر قوم کیلئے اہم پیغام

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) صدرِ اسلامی جمہوریہ پاکستان آصف علی زرداری کا شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی  کے موقع پرقوم کیلئے  پیغام

آج ہم سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی، شہید ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کی 47ویں برسی منا رہے ہیں، جن کی زندگی 4 اپریل 1979 کو جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا دور میں چلائے گئے ایک مقدمے کے بعد ناحق ختم کر دی گئی۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک مرکزی مقام رکھتے ہیں۔ 1971 کے بعد کے مشکل دور میں ان کی قیادت نے قومی اعتماد کو بحال کرنے اور ملک کو ایک نئے آئینی راستے پر ڈالنے میں مدد دی۔ 1973 کے آئین کی منظوری، جو آج بھی ہمارے پارلیمانی نظام کی رہنمائی کر رہا ہے، اس دور کی سب سے پائیدار کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ ان کی حکومت نے ایسی پالیسیوں اور اداروں کی بنیاد بھی رکھی جنہوں نے آنے والے برسوں میں پاکستان کی اسٹریٹجک سمت اور قومی سوچ کو شکل دی۔

تقریباً نصف صدی بعد، ان کی غیر منصفانہ، غیر قانونی اور غیر آئینی پھانسی کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے 6 مارچ 2024 کو اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں کا حق نہیں دیا گیا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ قانونی کارروائی نے “منصفانہ ٹرائل اور ضابطۂ قانون کی ہر جھلک کو ختم کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ ایک بے گناہ شخص کو جلد بازی میں تختۂ دار تک پہنچا دیا گیا۔”

عدالت کی رائے میں منصفانہ طریقۂ کار سے کئی سنگین انحرافات کی نشاندہی کی گئی۔ قتل کی تفتیش مئی 1976 میں باضابطہ طور پر بند کر دی گئی تھی کیونکہ پولیس اور تحقیقاتی ادارے ملزمان کا تعین کرنے میں ناکام رہے تھے۔ تاہم 5 جولائی 1977 کے فوراً بعد، جب جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹا، اس کیس کو بغیر قانونی اجازت کے دوبارہ کھول دیا گیا۔

اس مقدمے کو غیر معمولی طریقے سے لاہور ہائی کورٹ منتقل کیا گیا، بغیر ملزم کو اطلاع دیے، جس سے اسے “ ایک اپیل کے  حق” سے محروم کر دیا گیا اور اہم قانونی تحفظات کو غیر مؤثر بنا دیا گیا، جن میں ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 376 کے تحت یہ لازمی شرط بھی شامل تھی کہ ہر سزائے موت کی توثیق ہائی کورٹ کرے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ اس شق کو “صرف ایک بار نظر انداز کیا گیا، اور وہ یہی مقدمہ تھا۔”

1979 میں ان کی پھانسی نے پاکستان سے باہر بھی تشویش کو جنم دیا، جہاں کئی عالمی رہنماؤں اور مبصرین نے مقدمے اور سزا کے حالات پر بے چینی کا اظہار کیا۔ یوں یہ واقعہ نہ صرف پاکستان کی داخلی سیاسی تاریخ میں بلکہ انصاف، قانون اور سیاسی اختیار سے متعلق عالمی مباحث میں بھی اہم مقام رکھتا ہے۔

یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انصاف اور ضابطۂ قانون محض نظریاتی اصول نہیں ہیں۔ ان کی موجودگی یا عدم موجودگی کا اثر شہریوں کی روزمرہ زندگی میں محسوس ہوتا ہےعدالتوں، سرکاری دفاتر، کام کی جگہوں اور تعلیمی اداروں میں۔ جب ادارے انصاف اور قانون کے مطابق کام کرتے ہیں تو شہریوں کو یقین ہوتا ہے کہ ان کے حقوق محفوظ ہیں، اور جب یہ معیار کمزور پڑتے ہیں تو اس کے اثرات سب سے زیادہ عام لوگوں پر پڑتے ہیں۔

آئیں ہم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جرأت اور قربانی کو بھی یاد کریں، جنہوں نے اپنی والدہ بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ مل کر سیاسی جبر، قید و بند اور جلاوطنی کے دور میں اس جدوجہد کو آگے بڑھایا۔ جمہوری مزاحمت اور مسلسل جدوجہد، خصوصاً تحریکِ بحالیِ جمہوریت کے ذریعے، انہوں نے پاکستان میں آئینی نظام کی بحالی کی کوشش جاری رکھی اور بالآخر جمہوری اقدار کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

بطور قوم ہمیں اپنی تاریخ کے اس باب سے واضح اسباق حاصل کرنے چاہئیں۔ ہمارے اداروں پر یہ مستقل ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں، قانونی تقاضوں کا تحفظ کریں اور انصاف کی فراہمی کو غیر جانبدار اور منصفانہ بنائیں۔ یہی اصول ہماری جمہوریت کی مضبوطی اور عوام کے ریاستی اداروں پر اعتماد کے لیے ناگزیر ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button