وزیراعظم کا پیٹرولیم لیوی میں80روپےفی لیٹرکمی کا اعلان،پیٹرول کی نئی قیت 378فی لیٹر ہوگئی

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)وزیراعظم شہبازشریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول کی قیمت کا جو کل اعلان کیا گیا اس کے بعد فی لیٹر قیمت 458 روپے ہو گئی لیکن اس قیمت کو کم کرنے کیلئے میں آج پیٹرولیم لیوی میں فی الفور 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کر رہاہوں جس کے بعد آج رات 12 بجے پیٹرول کی قیمت 458 سے کم ہو کر 378 فی لیٹر ہو جائے گی ، یہ کمی اگلے ایک ماہ کیلئے ہو گی اور پورے پاکستان پر اس کا اطلاق ہوگا۔ اس سےقبل وفاقی کابینہ کی 2ماہ کی تنخواہ جمع کروانے کا اعلان کیا تھا،اب وفاقی کابینہ کی6ماہ کی تنخواہ جمع کروانے کا اعلان کر رہا ہوں۔
شہبازشریف کا کہناتھا کہ ہر ممکن کوشش کی کہ عوامی بہبود کیلئے ، آپ کی مشکلات کو کم کرنے کیلئے جو قومی وسائل ہیں، جو کہ محدود ہیں ، کو صَرف کیا جائے ، ایک ایک پیسے کی بچت سے آپ کو مہنگائی کے طوفان سے بچایا جا سکے، آج عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکاہے اور مہنگائی جس نے دنیا کی طاقتور معیشتوں کی بھی کمر توڑ دی ہے ، یقینا پاکستان بھی اس سے بری طرح متاثر ہو رہاہے ، اسی لیئے پچھلے تین ہفتوں میں، میں نے آپ کے اوپر ہر روز تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ ڈالنا قطعا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ میں جانتاہوں کہ پاکستان میں عام آدمی کس طرح زندگی بسر کرتا ہے ، آپ فجر کی نماز کے بعد رزق حلال کی تلاش میں نکلتے ہیں اور سارا دن محنت کرکے اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتے ہیں، اس کے باوجود آپ کے بے پناہ مسائل ہیں ، اسی لیئے میں نے ان تین ہفتوں میں قومی سائل سے 129 ارب روپے خرچ کر کے آپ تک اس قیامت خیز طوفان کو پہنچنے نہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ جنگ جلد سے جلد بند ہو جائے اور امن قائم ہو جائے ، اس کیلئے پاکستان کی حکومت نے ، میں نے ، نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر امن قائم کرنے کیلئے دن رات کاوشیں کر رہے ہیں، اس وقت تک اپنا فرض ادا کرتے رہیں گے جب تک آج کے یہ شعلے بجھ نہیں جاتے ۔کل قومی مشاورت کے حوالے سے وزیرخزانہ ، وزیر پیٹرولیم نے آئندہ کیلئے اعلانات کیئے ، اس کے پیچھے بھرپور مشاورت ہوئی، میں صدر پاکستان کا مشکور ہوں، جنہوں نے پوری قومی قیادت کو ایوان صدر میں دعوت دی ، جہاں پر چاروں صوبوں کے وزراءاعلیٰ ، آزاد کشمیر کے وزیراعظم، گلگت بلتستان کے عبوری وزیراعلیٰ، فیلڈ مارشل اور مجھ سمیت دوسرے لوگ موجود تھے ، وہاں پر مشاورت ہوئی، اس کے اگلے دن بھی وزیراعظم ہاوس میں مشاورت کی گئی، پھر کل بھرپور اجتماع میں ، جہاں پر چاروں صوبوں کے وزرا ء اعلیٰ موجود تھے ، آزاد جموں کشمیر، گلگت بلتستان، وفاقی وزراء سمیت تمام قیادت موجود تھی ، ایک جامع پروگرام کا اعلان کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ ہفتوں اور دنوں میں دیکھا کہ بعض ممالک میں میلوں لمبی قطاریں لگیں جہاں لوگوں کو بے پناہ تکلیف ہوئی، الحمداللہ پاکستان میں ہم نے ان تمام معاملات کو دور رکھا، اجتماعی کاوشوں اور بروقت فیصلوں کے ذریعے ، کل کے اعلانات کے مطابق موٹر سائیکل کو ایک لیٹر پر 100 سبسڈی دی جائے گی، اسی طریقے سے ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ گڈز ٹرانسپورٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ میں مال بردار گاڑیوں کو سپورٹ دینے کیلئے ایک ماہ تک 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے سبسڈی دی جائے گی ، جس کے تحت چھوٹے ٹرکوں کو 70 ہزار روپے ، بڑے ٹرکوں کو 80 ہزار اور عوامی سفر کی بسوں کو ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جائے گی تاکہ اشیاء ضروریہ کی قیمتیں اور کرایوں کو بوجھ آپ پر نہ پڑے۔پاکستان کے چھوٹے کسانوں کیلئے 1500 روپے فی ایکڑ امداد مہیا کرنے کا اعلان کیا گیاہے، اسی طرح پاکستان ریلویز کے حوالے سے میں نے یہ فیصلہ کیا کہ اکانومی کلاس میں مسافروں کیلئے کرایہ نہیں بڑھایا جائے گا، اس حوالے سے وزارت ریلوے کو واضح ہدایات جاری کر دی ہیں، قومی جذبات سے اقدامات کیلئے صوبائی وزراء اعلیٰ ، محترمہ مریم نواز شریف، مراد علی شاہ، سہیل آفریدی اور میر سرفراز بگٹی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتاہوں ، جنہوں نے اس قومی مقصد کیلئے اپنے وسائل مہیا کرنے کیلئے بلا تاخیر کمٹمنٹ کی ، یہی وقت کی آواز ہے، یہ وہ موقع ہے جس وقت اس تاریخ کے بہت بڑے چیلنج کا مقابلہ صرف اور صرف قومی یکجہتی ، اتفاق اور اتحاد کے ہی ساتھ کیا جا سکتا ہے ۔
ان کا کہناتھا کہ یہ تمام اعلانات جو کیئے گئے ، اس کا اطلاق گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کیلئے بھی ہو گا، جس کیلئے وسائل وفاقی حکومت بخوشی مہیا کرے گی ،مجھے احساس ہے کہ ان اقدامات کے باوجود بھی آپ کی مشکلات میں کمی تو ضرور آئے گی لیکن روزمرہ کی ضروریہ اشیاء کیلئے کئی زیادہ وسائل بھی دیئے جائیں تو وہ کافی نہیں ہوں گے ،میرا وعدہ ہےہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک آپ امن اور چین سے اپنی زندگی کے معمولات پر واپس نہیں آ جاتے ، انشاء اللہ ہم تمام توانائیاں اور وسائل استعمال کریں گے ۔



