پاکستان کی اہم شخصیت کا ہنگامی دورہ امریکا،ایران جنگ بندی کاآخری موقع

اسلام آباد/واشنگٹن(خصوصی تجزیاتی رپورٹ /جانو ڈاٹ پی کے)ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سنگین تنازع کو ختم کروانے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں، جس کے تحت پاکستان کی ایک انتہائی اہم ترین شخصیت (ممکنہ طور پر اعلیٰ عسکری قیادت) کا ہنگامی دورہ امریکہ طے پا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ دورہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے پاکستان، ترکیہ اور مصر کے ثالثوں کو کی جانے والی حالیہ فون کالز اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس انتباہ کے بعد ہو رہا ہے کہ ان کے ‘صبر کا پیمانہ لبریز’ ہو رہا ہے۔ امریکہ نے شرط عائد کی ہے کہ ایران فوری طور پر ابنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو تجارتی آمد و رفت کے لیے کھولے، جس کے بعد ہی براہِ راست مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب، اسرائیل اس امن عمل میں ایک بڑے ‘اسپوائلر’ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تہران میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ایران کے اہم مذاکرات کار کمال خرازی شدید زخمی اور ان کی اہلیہ شہید ہو گئیں، جس کے بعد مذاکراتی عمل میں تعطل پیدا ہو گیا ہے۔ اسرائیل نے پاکستان کے ثالثی کے کردار پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کو ثالث بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ تاہم، پاکستان اس خدشے سے دوچار ہے کہ اگر یہ جنگ پھیلی تو مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، بلاول بھٹو زرداری اور وفاقی کابینہ نے شرکت کی، جہاں اس نازک صورتحال پر غور کیا گیا۔ پاکستان کی یہ اہم شخصیت اب واشنگٹن میں صدر ٹرمپ، جے ڈی وینس اور مارکو روبیو سے ملاقات کر کے خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کا آخری فارمولا پیش کرے گی۔ مزید تفصیلات کے لیے معظم فخر کا خصوصی وی لاگ نیچے دیے گئے لنک پر دیکھیں۔



