مشرق وسطیٰ جنگ جاری رہی تو آبنائے ہرمز مستحکم نہیں رہے گا، چینی وزیرخارجہ

بیجنگ(جانوڈاٹ پی کے)چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ جاری رہی تو آبنائے ہرمز مستحکم نہیں ہوگا۔

غیرملکی خبررساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق وزیرخارجہ وانگ یی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ہے اور اس حوالے سے میں یورپی یونین، جرمن اور سعودی عرب کے ہم منصب سے بات کی ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا کردار اس تنازع کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مؤثر ہونا چاہیے۔

چینی وزیرخارجہ نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کا معاملہ ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے اثرات ہیں اورآبنائے ہرمز اس وقت تک مستحکم نہیں رہے گی جب تک جنگ جاری رہے گی۔

رپورٹ کے مطابق چینی وزیرخارجہ نے سعودی عرب کے وزیرخارجہ فیصل بن فرحان السعود سے ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا۔

اس سے قبل جرمنی کے وزیرخارجہ نے وانگ یی سے بات کی اور دونوں فریقین نے آبنائے ہرمز کی بحالی کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

جرمنی کی وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جرمنی اور چین آبنائے ہرمز میں آزادانہ نقل و حمل کی بحالی چاہتے ہیں اور اتفاق کیا کہ کسی بھی ملک کو انفرادی طور پر بحری راستوں پر کنٹرول یا یہاں سے گزرنے کے لیے لیوی کی شرط نہیں رکھنی چاہیے۔

بیان میں کہا گیا کہ چین مذاکراتی حل اور خلیجی ممالک کے خلاف کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایران کو آمادہ کرنے کے لیے اپنا اثروسوخ استعمال کرے گا۔

مزید خبریں

Back to top button