ٹرمپ کا ایک اور خطرناک یوٹرن،اسلام آباد میں بڑا سیاسی دھماکہ

​اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/(جانو ڈاٹ پی کے)​عالمی سیاست اور پاکستان کے داخلی محاذ پر ایک ساتھ دو بڑے طوفان کھڑے ہو گئے ہیں جہاں ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے ہی اعلان سے یوٹرن لے کر دنیا کو چکرا کر رکھ دیا ہے تو دوسری طرف اسلام آباد کی سیاست میں بھی ایک نئی کھچڑی پکنا شروع ہو گئی ہے کیونکہ امریکی صدر جو ابھی چند گھنٹے پہلے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور دستبرداری کی باتیں کر رہے تھے اب اچانک ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک نیا بیان داغ کر یہ کہہ چکے ہیں کہ جب تک آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر محفوظ نہیں بنایا جاتا تب تک ایران پر حملے جاری رہیں گے جس نے عالمی مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا ٹرمپ اپنی ہوش و حواس کھو بیٹھے ہیں یا یہ ان کا کوئی نیا سیاسی پینترا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سیاسی افق پر بھی ایک بڑا بریک تھرو ہوا ہے جہاں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اچانک مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچ گئے ہیں اور ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے آنے والے انتخابات کے لیے ایک نیا سیاسی اتحاد جنم لے رہا ہے جس میں دونوں جماعتوں کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے اور ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو طاقتور امیدواروں کا جائزہ لے کر مل کر حکومت سازی کی راہ ہموار کرے گی۔ مولانا فضل الرحمان جو کافی عرصے سے مسلم لیگ ن سے نالاں تھے اب دوبارہ اپنے پرانے اتحادیوں کی طرف جھکاؤ دکھا رہے ہیں اور تحریک انصاف کی جانب سے انہیں اپنی تحریک میں شامل کرنے کی تمام کوششیں فی الحال ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ مولانا کسی "گیلی زمین” پر پاؤں رکھنے کے بجائے ٹھوس سیاسی سودے بازی کو ترجیح دے رہے ہیں جس کے بعد اب آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں نون لیگ اور تحریک انصاف کے لیے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے اور آنے والے دنوں میں اقتدار کا ہما کس کے سر بیٹھتا ہے اس کا فیصلہ اب اسی نئے اتحاد کے ہاتھ میں نظر آتا ہے۔ اس سنسنی خیز سیاسی پیش رفت اور ٹرمپ کے یوٹرن کی مکمل اندرونی کہانی جاننے کے لیے معروف صحافی امداد سومرو کا وی لاگ نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے مکمل دیکھیں۔

مزید خبریں

Back to top button