5 دہائیوں بعد انسان کی چاند کے مدار میں واپسی کیلئے تیار،NASA کا آرٹیمس 2 مشن آج روانہ ہوگا

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)5 دہائیوں بعد انسان ایک بار چاند کے مدار پر واپسی کے لیے تیار ہیں۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے یکم اپریل کو 6 دہائیوں بعد پہلا انسان بردار خلائی مشن آرٹیمس 2 روانہ کیا جا رہا ہے۔
آرٹیمس 2 مشن میں 4 خلا بازوں کو چاند کے مدار میں 10 روزہ مشن کے لیے بھیجا جائے گا۔
اس مشن کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے مقامی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 24 منٹ (پاکستانی وقت کے مطابق رات 3 بج کر 24 منٹ) پر لانچ کیا جائے گا۔
آخری بار ناسا نے 1972 میں اپوپو پروگرام کے تحت انسان بردار مشن چاند پر بھیجا تھا اور اب 5 دہائیوں سے زائد عرصے بعد ایسا دوبارہ کیا جا رہا ہے۔
اس مشن کے لیے ناسا کی جانب سے اسپیس لانچ سسٹم راکٹ اور اورین اسپیس کرافٹ کو استعمال کیا جائے گا۔
ناسا کی جانب سے اس لانچ کو لائیو اسٹریم کیا جائے گا اور لانچ کے بعد پریس کانفرنس بھی کی جائے گی۔
ناسا حکام کے مطابق لانچ کے لیے موسم اب تک سازگار ہے مگر حالات کی مانیٹرنگ لانچ تک جاری رکھی جائے گی۔
یہ مشن پہلے 2 بار زمین کے مدار میں پرواز کرے گا اور پھر چاند کے اس حصے کی جانب روانہ ہوگا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔
اگر یہ مشن طے شدہ وقت کے مطابق روانہ ہوا تو ناسا کی جانب سے جنوری کے آخری میں ایک ریہرسل بھی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ نومبر 2022 میں آرٹیمس 1 مشن چاند پر جاکر زمین پر واپس آنے میں کامیاب رہا تھا، مگر اس مشن میں کوئی انسان موجود نہیں تھا۔
10 روزہ آرٹیمس 2 مشن کا مقصد چاند کے گرد انسانوں کو پہنچانا اور پھر واپس لانا ہے۔
یہ خلا باز چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے مگر یہ 1972 کے بعد پہلی بار ہوگا جب کوئی انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر سفر کرے گا۔
یہ مشن پہلے فروری 2026 میں بھیجنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا مگر چند تکنیکی وجوہات کے باعث اسے یکم اپریل تک ملتوی کر دیا گیا۔
آرٹیمس 2 مشن کا مقصد ناسا کے آرٹیمس 3 مشن کی صلاحیت کو جانچنا ہے۔
2027 میں شیڈول آرٹیمس 3 مشن کے تحت انسان دہائیوں بعد پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھیں گے۔
آرٹیمس 3 مشن کو اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ کے ذریعے چاند پر بھیجا جائے گا۔



