ایل او سی پر ہائی الرٹ : مودی سرکار کی انتخابی مہم یا جنگ کی تیاری؟

نئی دہلی/اسلام آباد(جانو ڈاٹ پی کے)بھارت اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول (LoC) پر کشیدگی ایک بار پھر انتہا کو پہنچ گئی ہے جہاں بھارتی فوج کی جانب سے اشتعال انگیز کارروائیوں اور جاسوس ڈرونز کی آمد کے بعد جودھپور اور سرینگر ائیرپورٹس کو ہر طرح کی سویلین پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ جودھپور ائیرپورٹ، جو کہ پاکستان کی سرحد کے قریب بھارتی فضائیہ کا اہم ترین مرکز ہے، وہاں سے بھارتی لڑاکا طیاروں کی غیر معمولی پروازیں ریکارڈ کی گئی ہیں جس نے خطے میں جنگ کے بادل منڈلانے کی افواہوں کو جنم دیا ہے۔ دوسری جانب سرینگر ائیرپورٹ پر بھی کنٹرول مکمل طور پر بھارتی فضائیہ نے سنبھال لیا ہے اور آئندہ ایک ماہ کے لیے تمام سویلین بکنگز منسوخ کر دی گئی ہیں، جس کے بعد نئی دہلی میں قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
سفارتی اور دفاعی ماہرین کے مطابق اس تمام تر ہنگامہ آرائی کے پیچھے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی مخصوص سیاسی حکمت عملی کارفرما ہے کیونکہ بھارت کی اہم ریاست مغربی بنگال سمیت تامل ناڈو، کیرالہ اور آسام میں رواں ماہ اپریل میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ مغربی بنگال میں بی جے پی اس وقت اپوزیشن میں ہے اور عوامی سروے کے مطابق ممتا بنرجی کی ٹی ایم سی اب بھی اکثریت حاصل کرنے کے لیے فیورٹ سمجھی جا رہی ہے، لہذا ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار ایک بار پھر ‘قومی سلامتی خطرے میں ہے’ کا راگ الاپ کر ووٹرز کی ہمدردیاں سمیٹنے اور انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رن وے کی مرمت جیسے تکنیکی بہانوں کو جودھپور اور سرینگر میں دفاعی رنگ دے کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کے خلاف ایک مصنوعی جنگی ماحول پیدا کیا جا سکے۔
دفاعی تجزیہ کار معظم فخر کے مطابق یہ تمام تر کشیدگی 27 اپریل کو انتخابی عمل مکمل ہوتے ہی اچانک ختم ہو جائے اس سنسنی خیز صورتحال پر مکمل تجزیہ یہاں ملاحظہ کریں




