​ہرمز لاک ڈاؤن،بحالی کے 5ناگزیر چیلنجز،عالمی معیشت کا سانس بحال ہو پائے گا؟

تحریر:​نہال معظم

​عالمی معیشت کی شہ رگ کہلانے والی آبنائے ہرمز اس وقت جس سنگین اور لرزہ خیز بحران کی زد میں ہے اس نے پوری دنیا کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ سوال ایک ڈراؤنا خواب بنتا جا رہا ہے کہ آخر تیل کی اس اہم ترین گزرگاہ سے سپلائی کی بحالی کب اور کیسے ممکن ہوگی۔ اگر ہم موجودہ حالات کا گہرا تجزیہ کریں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کا بہاؤ دوبارہ شروع ہونا محض ایک تکنیکی عمل نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ عالمی معمہ بن چکا ہے جس کے حل کے لیے زمین، فضا اور سمندر پر درج ذیل پانچ ناگزیر تبدیلیوں کی ضرورت ہے:

​1۔ جنگی جنون کا خاتمہ اور مستقل فائر بندی

سب سے پہلی اور بنیادی شرط اس خوفناک جنگی جنون کا خاتمہ ہے جس نے خلیج کے پرسکون پانیوں کو بارود کی بو اور دھوئیں سے بھر دیا ہے۔ جب تک فضاؤں میں ڈرونز کی گونج اور میزائلوں کی سنسناہٹ باقی ہے، کوئی بھی عالمی تجارتی کمپنی اپنے اربوں ڈالر کے دیو ہیکل جہاز اور قیمتی انسانی جانیں اس آگ کے دریا میں جھونکنے کا خطرہ مول نہیں لے گی۔ محض کاغذی جنگ بندی کافی نہیں ہوگی بلکہ میدانِ جنگ میں خاموشی پہلی سیڑھی ہے۔

​2۔ سیکیورٹی ضمانتیں اور انشورنس کا بحران

ماہرین اس نکتے پر متفق ہیں کہ بحری کمپنیوں کو ٹھوس اور ناقابلِ تردید سیکیورٹی ضمانتیں درکار ہوں گی۔ عالمی انشورنس کمپنیوں نے اس خطرناک زون کے لیے کوریج یا تو مکمل طور پر ختم کر دی ہے یا پھر پریمیم کی قیمتیں اتنی بلند کر دی ہیں کہ تیل کی تجارت اب ایک خسارے کا سودا بنتی جا رہی ہے۔ جب تک انشورنس مارکیٹ کا اعتماد بحال نہیں ہوتا، جہازوں کی آمد و رفت شروع نہیں ہو سکتی۔

​3۔ علاقائی استحکام اور معاشی دیوالیہ پن کا خطرہ

اس بندش کے علاقائی اثرات اتنے گہرے ہیں کہ تصویر ادھوری رہتی ہے۔ خلیجی ممالک کی معیشتیں جو مکمل طور پر تیل کی برآمدات پر منحصر ہیں، شدید دباؤ کا شکار ہیں اور ان کے داخلی استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ اگر یہ تعطل طویل ہوتا ہے تو خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے کا اندیشہ ہے اور کئی ریاستیں دیوالیہ پن کی نہج پر پہنچ سکتی ہیں، جو بحالی کی راہ میں ایک بڑی سیاسی رکاوٹ ہے۔

​4۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی پیش رفت

سفارتی محاذ پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کھینچا تانی نے پوری دنیا کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اب گیند پوری طرح ڈپلومیسی کے کورٹ میں ہے جہاں صدر ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیاں اور ایرانی حکام کی سخت گیر روش کے درمیان کوئی درمیانی راستہ نکالنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کی ثالثی کی کوششیں کلیدی اہمیت اختیار کر سکتی ہیں تاکہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے راستہ صاف ہو سکے۔

5-سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی اور تکنیکی بحالی

تمام سیاسی و عسکری معاملات حل ہونے کے بعد بھی سمندر کی تہوں میں بچھائی گئی ممکنہ بارودی سرنگوں کی صفائی اور جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ملبے کا خاتمہ ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ جب تک ماہرین تکنیکی طور پر اس راستے کو "کلیئر” قرار نہیں دیتے، تیل بردار جہاز اپنی منزل کی جانب گامزن نہیں ہو سکیں گے۔

عالمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز کا بحران صرف ایک تجارتی راستے کی بندش نہیں بلکہ یہ نئے عالمی نظام کی تشکیل کی ایک کڑی ہے جہاں توانائی کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر فریقین نے دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا اور کسی جامع امن معاہدے تک نہ پہنچے تو یہ چنگاری ایک ایسی عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے جس کی لپیٹ میں پوری انسانیت آ جائے گی۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب تک فریقین کے درمیان مکمل فائر بندی، سیکیورٹی کا بھرپور احساس اور سیاسی مفاہمت کا عمل مکمل نہیں ہوتا، تب تک آبنائے ہرمز سے تیل کی روانی ایک ادھورا خواب ہی رہے گی اور عالمی معیشت اسی طرح ہچکولے کھاتی رہے گی جس کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری محض تماشائی بننے کے بجائے اس بارود کے ڈھیر کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے ورنہ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرے گی۔

مزید خبریں

Back to top button