تھرکول میں اربوں روپے کی کرپشن، ملازمین کے حقوق کی پامالی، بغیر اطلاع برطرفی کے الزامات

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانوڈاٹ پی کے)تھرکول بلاک ون اور ٹو کی انتظامیہ پر الزام ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی قانون کے تحت مقامی افراد اور ملازمین کو ان کے حقوق فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ یہ الزامات مقامی لوگوں کی جانب سے مختلف اوقات میں کیے گئے احتجاجوں میں بھی سامنے آئے، جبکہ چند سال قبل برطرف ملازم محمد بخش سومرو (ایم بی سومرو) نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہی باتیں کہیں۔
ایم بی سومرو نے میڈیا کو بتایا کہ تھرکول منصوبے کو چلانے والی انتظامیہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے مطابق ملازمین اور مقامی افراد کو چارٹر آف ڈیمانڈ کے تحت حقوق اور سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
چارٹر آف ڈیمانڈ کے 14 نکات پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے تحت ملازمین، اسٹاف اور ڈرائیورز کو 89 دن یعنی تین ماہ میں مستقل کیا جائے اور انہیں قانونی حقوق دیے جائیں، جس کے تحت تمام سہولیات فراہم کی جائیں۔
کم از کم اجرت پر سالہا سال کام کرنے والے مزدوروں اور ملازمین کو ان کے حقوق دیے جائیں۔ سالانہ بونس، ایوارڈ اور معاہدے کیے جائیں۔ ہر سال پانچ فیصد اضافہ دیا جائے۔ ریموٹ ایریا اور کول ڈسٹ الاؤنس دیا جائے۔ لیبر اور ملازمین کی یونین کے حقوق تسلیم کیے جائیں۔ کول ڈسٹ میں کام کرنے والی ٹیموں، ڈرائیورز، آپریٹرز اور مزدوروں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے کمپنی پالیسی کے تحت 14 دن کی روٹیشن چھٹیاں، فنڈز اور غذائی سہولیات فراہم کی جائیں۔
ہر چھ ماہ بعد مزدوروں، ملازمین اور ڈرائیورز کے اسکن ٹیسٹ کرائے جائیں۔ مقامی ملازمین کو کمپنی پالیسی کے مطابق پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دی جائے۔ اوور ٹائم، سالانہ بونس، میڈیکل، گریجویٹی اور دیگر ادائیگیاں کمپنی پالیسی کے مطابق دی جائیں۔
لیبر قوانین، لیبر ڈیپارٹمنٹ اور انڈسٹریل ایکٹس کے تحت ملازمین کو مکمل حقوق دیے جائیں۔
ٹرمینیشن پالیسی کے تحت کسی بھی ملازم کو برطرف کرنے سے پہلے وارننگ لیٹر، ٹیبل ٹاک، انکوائری اور باقاعدہ کارروائی کی جائے اور ایک ماہ پہلے اطلاع دی جائے تاکہ وہ ذہنی طور پر تیار ہو سکے۔
مقامی افراد کو زیادہ سے زیادہ روزگار دیا جائے اور ان کے ساتھ تحریری معاہدے اور ملازمت کارڈ جاری کیے جائیں۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ تھرکول کے دونوں بلاکس میں کام کرنے والے ملازمین اور مزدوروں کے مختلف مدات میں اربوں روپے کرپشن کی نذر ہو چکے ہیں۔
ایم بی سومرو نے کہا کہ مذکورہ بالا حقوق میں سے انہیں ایک بھی حق نہیں ملا۔ انہوں نے بتایا کہ نومبر 2023 میں انہیں چھٹی پر بھیج کر بعد میں ای میل کے ذریعے برطرفی کا لیٹر بھیج دیا گیا۔ ان کا گیٹ پاس بند کر دیا گیا اور سامان ٹی سی ایس کے ذریعے گھر بھیج دیا گیا، جو کہ غیر قانونی عمل ہے اور کسی بھی پالیسی یا طریقہ کار کے مطابق نہیں۔ مزید یہ کہ انہیں آٹھ سال کی گریجویٹی بھی ادا نہیں کی گئی۔



