پاکستان اور چین کا مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے 5 نکاتی فارمولا

​اسلام آباد/بیجنگ( مانیٹرنگ ڈیسک \جانو ڈاٹ پی کے)​پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے 29 مارچ کی رات ایک انتہائی اہم اور خفیہ سفارتی سرگرمی میں حصہ لیا، جس کے بعد پاکستان اور چین نے مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک مشترکہ 5 نکاتی اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، صدر زرداری نے چینی سفارت خانے کا غیر اعلانیہ دورہ کیا تاکہ ایران کی جانب سے مانگی گئی ‘بین الاقوامی ضمانت’ (Garantor) کے حوالے سے چینی قیادت سے براہِ راست رابطہ کیا جا سکے۔

​تزویراتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ اسے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کسی مضبوط عالمی طاقت کی ضمانت چاہیے، جس کے لیے پاکستان نے چین کو آمادہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

​دوسری جانب، واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل، ایران میں کارروائیوں کے لیے ایک انتہائی جدید مصنوعی ذہانت (AI) کا نظام استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیلی سائبر یونٹ 8200 نے مبینہ طور پر ایران کے داخلی سیکیورٹی نظام، ٹریفک کیمروں اور ڈیجیٹل ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کر لی ہے، جس کی مدد سے اب تک 250 سے زائد ایرانی اعلیٰ حکام کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

​ماہرین کے مطابق، چین کا اس تنازعے میں ‘فرنٹ لائن’ پر آنا ایک بڑی تبدیلی ہے، جس سے خطے میں برابری کی سطح پر مذاکرات کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ پاکستان کی ‘بیک ڈور ڈپلومیسی’ اور صدر زرداری کے چینی قیادت کے ساتھ دیرینہ تعلقات اس امن مشن میں اہم ثابت ہو رہے ہیں۔

​مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور 5 نکات کی تفصیلات کے لیےسید عمران شفقت کا مکمل تجزیہ یہاں ملاحظہ کریں؛

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button