عالمی تنازعہ اور اسلام آباد میں اہم سفارتی بیٹھک

اسلام آباد( خصوصی تجزیاتی رپورٹ\ جانو ڈاٹ پی کے)ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے تناظر میں پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ اسلام آباد میں آج ہونے والی اہم بیٹھک، جس میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ شرکت کر رہے ہیں، خطے میں امن کی بحالی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
سینئر تجزیہ نگاروں کے مطابق، پاکستان کا یہ مصالحتی کردار محض اپنی طرف سے کی جانے والی کوشش نہیں ہے، بلکہ اسے چین، روس، ترکیہ اور سعودی عرب سمیت تمام علاقائی قوتوں کی مکمل تائید حاصل ہے۔ یہاں تک کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی، جو طویل عرصے سے عالمی سطح پر تنہائی کا شکار تھے، اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کال کے بعد اس عمل میں ‘فیس سیونگ’ (Face Saving) تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے کردار کی خاموش توثیق اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ بحران میں پاکستان کی اہمیت ناگزیر ہو چکی ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان پیغام رسانی کا ایک مؤثر نظام قائم کیا ہے، جس کی بدولت جنگ بندی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ اگرچہ ایران کا موقف ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے بے تاب نہیں، لیکن انہوں نے پاکستان کی ان کوششوں کی کبھی تردید بھی نہیں کی، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں۔
تجزیہ نگاروں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کو مذہبی رنگ دینے کے بجائے سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور ایک دوسرے کے خلاف پراکسی وار (Proxy War) کے خاتمے سے ہی اسرائیل جیسے جارح عزائم رکھنے والے ممالک کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔
مزید تفصیلات کے لیےسید عمران شفقت اور ان کے پینل کا یہ وی لاگ ملاحظہ کریں؛




