امریکی سہولت کارخلیجی ممالک کو ایران کی حتمی وارننگ: حوثی باغی بھی متحرک

اسلام آباد: مانیٹرنگ ڈیسک (جانو ڈاٹ پی کے)مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک، بالخصوص کویت، بحرین اور سعودی عرب کے لیے سنگین خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر کوئی بھی زمینی حملہ ہوا یا خلیجی ممالک نے امریکہ اور اسرائیل کو اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی، تو جواباً عراقی ملیشیاز کویت پر چڑھائی کر سکتی ہیں۔ یہ وہی ماڈل ہے جو ماضی میں صدام حسین نے کویت کی فتح کے لیے استعمال کیا تھا۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق، عراق میں مقیم آیت اللہ سیستانی کے گھر کے باہر ہزاروں لوگوں کا ہجوم جمع ہے جو ‘جہاد’ کے فتوے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اگر عراقی ملیشیاز کو متحرک کیا گیا تو جنگ کا دائرہ کار ایران کی سرحدوں سے نکل کر پورے خطے میں پھیل سکتا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ متحدہ عرب امارات، بحرین اور اردن جیسے ممالک اسرائیل کو انٹیلیجنس اور سرویلنس میں مدد فراہم کر رہے ہیں، جس کے باعث اب یہ ممالک بھی ایرانی میزائلوں کے نشانے پر ہیں۔
دوسری جانب، یمن کے حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر (Red Sea) اور باب المندب کو مکمل طور پر بند کرنے کی دھمکی دی ہے، جو براہِ راست یورپ کی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ حوثی باغیوں کے حوالے سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ جنوبی سعودی عرب کے ان علاقوں پر قبضے کی کوشش کر سکتے ہیں جہاں ان کی ہم مسلک برادریاں مقیم ہیں۔
پاکستان اس تمام صورتحال میں ایک ‘توازن’ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ ایران نے 20 پاکستانی بحری جہازوں کو اپنے جھنڈے کے ساتھ گزرنے کی خصوصی اجازت دی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ‘ان پریڈیکٹیبل’ پالیسیاں اور اسرائیل کی ‘ایملیک ڈاکٹرائن’ (Amalek Doctrine)—جس کے تحت وہ ہر چیز کو خطرہ قرار دے کر تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں—خطے کو ایک ایسی بڑی جنگ کی طرف دھکیل رہی ہیں جس کے نتائج صدیوں تک بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی اس بدلتی ہوئی صورتحال اور ایران کے ممکنہ زمینی منصوبوں پر توصیف احمد خان کا یہ تجزیہ دیکھیں؛




