اصفہان پر 2 ہزارکلوگرام وزنی ‘بنکر بسٹر’کا حملہ،’فنانشل ٹائمز نے بھی وائٹ ہاؤس پر بم برسا دئیے

​تہران/واشنگٹن: مانیٹرنگ ڈیسک (جانو ڈاٹ پی کے)​ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں ایک ہولناک موڑ اس وقت آیا جب اسرائیل نے ایران کے شہر اصفہان پر 2000 کلوگرام وزنی ‘بنکر بسٹر’ (Bunker Buster) بم گرانے کا دعویٰ کیا۔ یہ بم زمین دوز اسلحہ ساز فیکٹریوں اور میزائل مراکز کو تباہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹرتھ سوشل’ پر اس دھماکے کی ویڈیو شیئر کی ہے، جس سے خطے میں صلح کی کوششوں کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

​دوسری جانب، معروف عالمی جریدے ‘فنانشل ٹائمز’ نے ایک تہلکہ خیز رپورٹ شائع کی ہے جس نے وائٹ ہاؤس کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیرِ دفاع کے قریبی حلقوں اور بروکرز نے جنگ شروع ہونے سے محض چند ہفتے قبل دفاعی کمپنیوں (Defense Companies) میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ اس انکشاف کے بعد یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا یہ جنگ نظریاتی یا مذہبی ہے، یا محض اسلحہ بیچنے اور معاشی فوائد حاصل کرنے کا ایک بڑا کاروباری منصوبہ؟ وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ کو ‘سفید جھوٹ’ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، تاہم فنانشل ٹائمز اپنی خبر پر قائم ہے۔

​عالمی معیشت پر اس جنگ کے اثرات بھی سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں۔ تیل کی قیمتیں 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں.

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے حملوں میں تیزی دراصل امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک شعوری کوشش ہے، کیونکہ جنگ بندی کی صورت میں اسرائیلی قیادت کو اندرونی سیاسی و قانونی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

​جنگ کی تازہ ترین صورتحال اور اس کے پسِ پردہ معاشی حقائق پر گوہر بٹ کا یہ ولاگ دیکھیں؛

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button