100 سالہ مغربی تسلط ختم:نئے ‘ سیکیورٹی پیراڈائم’ کا آغاز وہ بھی پاکستان سے!

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ،جانو ڈاٹ پی کے)ایران نے امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے دو بڑی شرائط عائد کر دی ہیں، جن کا محور پاکستان اور چین ہیں۔ تہران کی جانب سے پاکستان کو آگاہ کیا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل کی صورت میں پاکستان کو ‘ضمانتی’ (Guarantor) کا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ ایران کی دوسری بڑی شرط یہ ہے کہ پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ کیے گئے دفاعی معاہدے کی طرز پر ایران کے ساتھ بھی ایک ‘میوچل سٹریٹیجک ڈیفنس ایگریمنٹ’ کرے، جس میں چین کی ضمانت بھی شامل ہو۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ دورہ بیجنگ اسی سلسلے کی کڑی ہے، جہاں وہ چین کو اس نئے علاقائی سیکیورٹی ڈھانچے میں بطور ضامن شامل کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں ہونے والے حالیہ چار ملکی اجلاس (پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر) میں ابنائے ہرمز (Strait of Hormuz) اور باب المندب کے مشترکہ کنٹرول کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اس تجویز کے تحت مسلم ممالک کا ایک کنسورشیم ان تجارتی گزرگاہوں کی حفاظت کرے گا اور یہاں سے گزرنے والے جہازوں سے وصول ہونے والی فیس سیکیورٹی پر خرچ کی جائے گی۔
وال سٹریٹ جنرل کی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ابنائے ہرمز کے معاملے کو مزید چھیڑے بغیر وہاں سے امریکی انخلاء چاہتے ہیں اور اس حساس معاملے کو مسلم ممالک پر چھوڑنے کے حق میں ہیں۔ یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ 100 سالہ مغربی تسلط کے خاتمے اور ایک نئے ‘علاقائی سیکیورٹی پیراڈائم’ (Security Paradigm) کی نشاندہی کرتی ہے، جس کا مرکز اس بار لندن یا پیرس نہیں بلکہ اسلام آباد بنتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
اس اہم تزویراتی تبدیلی اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار پر معظم فخر کا یہ تفصیلی تجزیہ ملاحظہ کریں؛




