تھرپارکر: تھر ایجوکیشن الائنس اور ملالہ فنڈ کی تربیتی ورکشاپ میں لڑکیوں کی قیادت اور تعلیم میں حصہ داری کو فروغ

تھرپارکر (میندھرو کاجھروی) تھرپارکر میں تھر ایجوکیشن الائنس اور ملالہ فنڈ کے تعاون سے لڑکیوں کی تعلیم، پبلک انویسٹمنٹ اور جینڈر ریسپانسیو ایجوکیشن بجٹنگ کے حوالے سے ایک روزہ لیڈرشپ و ایڈووکیسی ٹریننگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں 25 چیمپین فار چینج لڑکیوں نے شرکت کی۔ تربیتی پروگرام مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا، جس کا مقصد لڑکیوں کو قیادت اور مؤثر آواز اٹھانے کے قابل بنانا تھا۔

تربیت ماہر سماجی رہنما کپیل دیو نے فراہم کی، جنہوں نے شرکاء کو ایڈووکیسی کے بنیادی اصول، مؤثر کمیونیکیشن، تحقیق اور ڈیٹا کے استعمال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط دلائل اور درست معلومات کے ذریعے ہی پالیسی سازوں تک مؤثر انداز میں بات پہنچائی جا سکتی ہے۔اس موقع پر تھر ایجوکیشن الائنس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پرتاب شیوانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں لڑکیوں کی تعلیم کی بہتری اور اس کے لیے مخصوص بجٹ کے حصول کے لیے باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے تمام اسکولوں کے ہیڈ ٹیچرز کو اختیارات دے کر اسکول کی بہتری کیلئے فنڈ ہیڈ ٹیچرز کے اختیار میں دینے کے قدم کی تعریف کرتے کہا اس بجٹ سے اب ہیڈ ٹیچرز اپنے اسکولوں کے بنیادی مسائل خود ہی حل سکتے ہیں اور اس حوالے سے شرکاء کو بھی معلومات فراہم کی گئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ “چیمپین فار چینج” نیٹ ورک کے تحت سندھ کے چھ اضلاع میں تعلیم یافتہ لڑکیوں کو تربیت دے کر انہیں اپنی کمیونٹیز میں تعلیمِ نسواں کے فروغ کے لیے متحرک کیا جا رہا ہے تاکہ وہ مقامی سطح پر مسائل کو اجاگر کر سکیں اور لڑکیوں کی تعلیم کی بہتری کیلئے خصوصی فنڈ مختص کرنے کے لیے آگاہی مہم چلا سکیں۔جس میں ضلع سطح سے صوبائی سطح پر مہم اور مشاورتی اجلاس کیے جائیں گے۔ورکشاپ کے دوران شرکاء کو ایڈووکیسی کی منصوبہ بندی، اسمارٹ اہداف کے تعین، پاور میپنگ، مؤثر پیغام سازی اور خطرات کے تجزیے جیسے موضوعات پر عملی رہنمائی دی گئی۔ اس کے علاوہ تعلیمی بجٹ کو سمجھنے، اس کی اقسام، بجٹ دستاویزات (پنک بک) اور بجٹ سائیکل میں مؤثر انداز میں آواز اٹھانے کے طریقوں پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔تربیتی سیشن میں جینڈر ریسپانسیو بجٹنگ (GRB) اور پالیسی سازی کے تین زاویوں پر بھی روشنی ڈالی گئی، جبکہ کمیونٹی آؤٹ ریچ، میڈیا انگیجمنٹ، پٹیشنز اور قیادت سے ملاقات جیسے عملی اقدامات سکھائے گئے تاکہ شرکاء میدانِ عمل میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

اس موقع پر ایک جامع رہنما کتاب بھی متعارف کرائی گئی، جس میں لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق چیلنجز، حکمت عملیاں، ایڈووکیسی پلاننگ، اور عملی اقدامات کو تفصیل سے بیان کیا گیا۔اس نوعیت کی تربیتیں نہ صرف لڑکیوں میں قیادت کی صلاحیتیں اجاگر کرتی ہیں بلکہ انہیں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا حوصلہ بھی دیتی ہیں، جو تھرپارکر سمیت پسماندہ علاقوں میں تعلیمِ نسواں کے فروغ کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔اس موقع پر تھر ایجوکیشن الائنس کی پروگرام مئنيجر صنم الطاف، فضا حنیف،کرن کماری،سندر کوٹھاری،ونود شرما ودیگران بھی موجود تھے۔تربيت حاصل کرنے والی لڑکیوں کو سرٹیفکیٹ بھی دیئے گئے۔

مزید خبریں

Back to top button