بدین: پنگریو میں جی ڈی اے رہنماؤں کی گرفتاری کیخلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی دھرنا

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے) رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف پنگریومیں شٹر ڈاؤن ہڑتال۔ احتجاجی دھرنا، مرکزی قیادت نے اقدام کو سیاسی انتقام کی بدترین مثال قرار دے دیا۔ پنگریو میں جی ڈی اے کے رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی، جس میں تاجروں، دکانداروں اور سول سوسائٹی نے احتجاجاً کاروبار بند رکھا اور مقدمے کو جھوٹا و بے بنیاد قرار دیا۔ ہڑتال کے باعث شہر کے مختلف بازار بند رہے اور شہری زندگی متاثر ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق رئیس جہان خان کھوسو، بچل کھوسو اور صحافی سجاد کھوسو کے خلاف گندم کے کھلیان کو نذرِ آتش کرنے کے الزام میں پنگریو تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق مقدمہ ٹاؤن چیئرمین میر محمد بخش تالپور کے منیجر غلام نبی شاہ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں مذکورہ افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ دوسری جانب جی ڈی اے کی کال پر پنگریوشہرمیں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی جس کی وجہ سے مختلف کاروباری اورتجارتی مراکز بند رہے کہ ڈی اےکے کارکنان نے گرفتاریوں کو سیاسی انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا مظاہرین نے پریس کلب پنگریو کے سامنے دھرنا دیا، شدید نعرے بازی کی اور مقدمے کے اندراج کے خلاف شدیدردعمل کااظہارکیا۔ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے گلزار ملاح، معشوق شاہ ۔ارشدچانڈیواوردیگر نے کہا کہ جہان خان کھوسو اور ان کے بھانجے و بھتیجے کے خلاف مقدمہ ٹاؤن چیئرمین کے ایماء پر درج کیا گیا، جو کہ کھلی سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ جہان خان کھوسو نے چیئرمین کے مقابلے میں بلدیاتی الیکشن لڑاتھا، جس کے بعد انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہان خان کھوسو اور ٹاؤن چیئرمین کے درمیان دکان کی ملکیت کا تنازع بھی موجود تھا، جس کا فیصلہ عدالت اور پنچائت دونوں سطحوں پر جہان خان کے حق میں آچکا، تاہم اس کے باوجود انہیں جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنگریو پولیس نے انہیں ان کی دکان سے گرفتار کرکے بعد ازاں گندم کے کھلیان کو آگ لگانے کے واقعے میں ملوث ظاہر کیا ادھرجی ڈی اے کے مرکزی رہنماؤں سابق اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، ڈاکٹر ذوالفقار علی مرزا اور بیرسٹر حسنین علی مرزا نے بھی پنگریو میں جی ڈی اے رہنما جہان خان کھوسو اور ان کے بھتیجے و بھانجے کی گرفتاری کی شدید مذمت کی۔ اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے اور ایسے ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی نمائندوں کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور بے گناہ افراد کو فوری رہا کیا جائے۔ احتجاجی مظاہرین نے بھی آئی جی سندھ سے اپیل کی کہ فوری نوٹس لے کر انصاف فراہم کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button