تھرپارکر کے سیکڑوں آر او پلانٹ ملازمین عید پر بھی تنخواہوں سے محروم رہے،ٹریژری آفیسر اور انتظامیہ کی ملی بھگت کا الزام

تھرپارکر (میندھرو کاجھروی/جانوڈاٹ پی کے)محکمہ پبلک ہیلتھ تھرپارکر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے ملازمین کے ساتھ ظلم کی انتہا کر دی ہے۔ 775 غریب آر او پلانٹ آپریٹرز کو عید کے موقع پر بھی گزشتہ تین ماہ کی تنخواہیں جاری نہیں کی گئیں، جس کے باعث وہ عید کی خوشیاں بھی نہ منا سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ 19 تاریخ کو ٹریژری سے ملازمین کی تنخواہوں کا چیک جاری ہونے کے باوجود، ڈی او سی کی غلطی اور چیک پر ٹریژری آفیسر کے دستخط نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین اب تک تنخواہوں سے محروم ہیں۔
ملازمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈپٹی کمشنر تھرپارکر عبدالحلیم جاگیریانی سے ملاقات کر کے تنخواہوں کا مسئلہ اٹھایا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے ٹریژری آفیسر کو سختی سے ہدایت کی کہ فوری طور پر چیک پر دستخط کر کے ملازمین کی تنخواہیں جاری کی جائیں، مگر چار دن گزرنے کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔ آر او پلانٹ آپریٹرز کا مزید کہنا ہے کہ وہ دور دراز دیہات سے تنخواہوں کی امید پر مٹھی آتے ہیں، مگر انہیں صرف جھوٹے وعدے دیے جاتے ہیں۔
ملازمین نے یہ بھی الزام لگایا کہ 25 سے 30 غریب ملازمین کی تنخواہوں میں غیر قانونی کٹوتی کی جا رہی ہے۔
آر او پلانٹ ملازم عرفان بجیر اور دیگر نے ڈپٹی کمشنر تھرپارکر، محکمہ پبلک ہیلتھ کے ایکسیئن صفدر شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر تین ماہ کی بقایا تنخواہیں آج شام تک جاری کی جائیں، بصورت دیگر کل ڈپٹی کمشنر تھرپارکر کے دفتر کے سامنے بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔



