ایرانی تعلیمی اداروں پر حملے،امریکہ جواب کیلئے تیار رہے،ایران کی وارننگ

تہران/واشنگٹن(جانو ڈاٹ پی کے)ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک ایسے خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں صرف فضائی حملے ہی نہیں بلکہ زمینی فوج (Boots on Ground) اتارنے کی تیاریاں بھی عروج پر ہیں۔ امریکی سینٹ کام نے تازہ ترین اعلان میں مزید 3500 فوجیوں کو مشرقِ وسطیٰ روانہ کرنے کی تصدیق کی ہے، جبکہ مجموعی طور پر ایک لاکھ امریکی فوجیوں کو ایران میں داخل کرنے کا منصوبہ زیرِ بحث ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرتے ہوئے ایران کے تعلیمی اور صنعتی ڈھانچے کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ ایران کی معروف ‘یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی’ سمیت تین بڑی جامعات پر حملے کیے گئے ہیں۔ اس کے جواب میں ایران نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں موجود تمام امریکی یونیورسٹیز اور صنعتی مراکز، بشمول متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ایلومینیم پلانٹس، اب ایرانی نشانے پر ہیں۔ ان حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات کے لب و لہجے میں نمایاں نرمی آئی ہے اور اب وہ مذاکرات کو ہی واحد حل قرار دے رہے ہیں۔
سفارتی محاذ پر، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے متنبہ کیا ہے کہ امریکہ ایک طرف پاکستان کے ذریعے مذاکرات کا جال بچھا رہا ہے اور دوسری طرف حملوں کی شدت میں اضافہ کر رہا ہے۔ ایران نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ ‘نان پرولیفریشن ٹریٹی’ (NPT) سے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے ۔




