اکرم واہ ڈویژن کی مین کینال شادی لارج واہ سے غیر قانونی واٹرکورس نکالنے کیخلاف آبادگاروں کاہنگامی اجلاس

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)
اکرم واہ ڈویژن کی مین کینال شادی لارج واہ سے ممکنہ غیر قانونی واٹرکورس نکالنے کے خلاف شادی لارج واہ کے آبادگاروں کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں آبپاشی اور سیڈا کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ بلاجواز اس غیر قانونی واٹرکورس کو مسترد کیا جائے تفصیلات کے مطابق اکرم ڈویژن کی شادی لارج مین کینال سے ایک بااثر ڈاکٹر ہارون نامی زمیندار کو، آبپاشی عملے کی مبینہ رشوت کے عوض، اس کی 64 ایکڑ زمین کے لیے سروے کے تحت اصل کھاتیدار ارشد حبیب ولد فضل حبیب کے بلاک نمبر 114، 115، 116 اور 117 پر غیر قانونی طور پر آر ڈی نمبر 145 سے ایک نیا علیحدہ واٹرکورس منظور کر کے نکالا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے آبپاشی قوانین کو پامال کیا جا رہا ہے۔
اس اطلاع کے ملتے ہی شادی لارج واہ کے آخری سرے (پوچھڑی) کے آبادگاروں، ہاریوں اور رہائشیوں میں شدید بے چینی اور غم و غصہ پھیل گیا۔ اس حوالے سے آبادگاروں اور علاقائی سیاسی رہنماؤں رئیس عطاء اللہ خان بروہی، رئیس غلام نبی بروہی، سردار عبدالشکور خان لہڑی، رئیس محمد ابراہیم خان بروہی کی قیادت میں جتوئی واٹر اسٹاپ پر ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں سیٹھ نظیر احمد بروہی، میر مقبول احمد بروہی، ماسٹر محمد حسن نہڑیو، میر شاہنواز خان جتوئی، ڈاکٹر لیاقت علی بروہی، رئیس نصیر احمد بروہی، ایڈووکیٹ سمیع اللہ بروہی، شفیع محمد بروہی، حافظ محمد یوسف، تبلیغی رہنما محمد عیسیٰ بروہی، محمد دین مینگل، عبدالرشید بروہی، میر علی احمد لاڑ سمیت بڑی تعداد میں آبادگاروں نے شرکت کی اس موقع پر صحافی غلام رسول بروہی نے شرکاء کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بااثر زمیندار ڈاکٹر محمود کی 64 ایکڑ زمین گزشتہ 60 سال سے واٹرکورس نمبر 81-R سے سیراب ہو رہی ہے، لیکن وہ اپنے اثر و رسوخ اور دولت کے زور پر نیا علیحدہ واٹرکورس 80-R غیر قانونی طور پر منظور کرا کے پوچھڑی کو خشک کرنا چاہتا ہے۔ جبکہ آبپاشی قوانین کے مطابق اتنی کم اراضی کے لیے کسی بھی مین کینال سے علیحدہ واٹرکورس کی منظوری نہیں دی جا سکتی
انہوں نے مزید کہا کہ 1962 میں شادی لارج واہ کی تعمیر کے بعد اس علاقے کی تمام زمینوں کو پہلے ہی پانی کی تقسیم کے لیے شامل کیا جا چکا ہے اور کوئی زمین خالی نہیں جسے سفارش یا رشوت کے ذریعے نئی شامل کیا جائے۔ یہ اقدام سراسر ظلم، ناانصافی اور پوچھڑی کے آبادگاروں کے پانی کے حق پر ڈاکہ ہے اجلاس میں آبادگاروں نے متفقہ طور پر اس غیر قانونی واٹرکورس کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ کسی صورت اسے بننے نہیں دیں گے اور ہر قانونی و اخلاقی محاذ پر اس کی مخالفت کریں گے
اس موقع پر سینکڑوں آبادگاروں نے صوبائی وزیر آبپاشی سندھ، اریگیشن اور سیڈا کے اعلیٰ حکام، سندھ حکومت اور حلقے کے منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس غیر قانونی واٹرکورس کو منسوخ کر کے انصاف فراہم کیا جائے، پوچھڑی کو خشک ہونے سے بچایا جائے اور اس غیر قانونی اقدام میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔



