‘گریٹر اسرائیل’ کا خواب چکنا چور: ایران کے بعدسعودیہ اور ترکیہ کےایٹمی پروگرام شروع!

تہران / کویت سٹی( خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)مشرقِ وسطیٰ میں ایٹمی تصادم کے سائے گہرے ہو گئے ہیں جہاں کویت نے ممکنہ تابکاری کے خطرے کے پیشِ نظر اپنے شہریوں کو گھروں میں محصور رہنے اور کھڑکیاں دروازے بند رکھنے کے ہنگامی احکامات جاری کیے ہیں.
ذرائع کے مطابق یہ خدشات ایران کی ایٹمی تنصیبات، خاص طور پر بو شہرنیوکلیئر پاور پلانٹ پراسرائیلی اور امریکی بمباری کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔ روس نے اسرائیل کو واضح وارننگ دی ہے کہ بو شہر پلانٹ پر حملے بند کیے جائیں کیونکہ اس کے نتائج پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں، جبکہ ایران نے عالمی توانائی ایجنسی (IAEA) کو خط لکھ کر تابکاری کے اخراج کے خطرات سے آگاہ کر دیا ہے۔
دوسری جانب، اسرائیل کے ایٹمی مرکز ‘ڈیمونہ’ پر ایرانی میزائل حملوں نے تل ابیب کو ‘سیمسن آپشن’ (Samson Option) پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایران کی نئی اور سخت گیر قیادت میں اب یہ سوچ تیزی سے جڑ پکڑ رہی ہے کہ مسلسل حملوں اور پابندیوں کے جواب میں اب ایٹمی دھماکہ کر کے خود کو باقاعدہ ایٹمی قوت ڈکلیئر کر دیا جائے تاکہ مستقل دفاعی حصار (Nuclear Deterrence) حاصل کیا جا سکے۔
ایران کے اس ممکنہ فیصلے کے بعد سعودی عرب اور ترکیہ کی جانب سے بھی ایٹمی پروگرام شروع کرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جس نے ‘گریٹر اسرائیل’ کے خواب کو چکنا چور کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران ایٹمی دھماکہ کرتا ہے تو یہ اسرائیل اور امریکہ کے لیے اب تک کا سب سے بڑا تزویراتی دھچکا ہوگا، جو خطے کی پوری بساط پلٹ کر رکھ دے گا۔
مکمل سنسنی خیز تجزیے کے لیے معروف تجزیہ کار معظم فخر کا یہ وی لاگ ملاحظہ کریں؛




