آبنائے ہرمز: ٹرمپ کا کھٹا انگور اور تاریخی بڑھکیں

نہال معظم:

​آبنائے ہرمز کی لہروں پر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ قلابازیاں دیکھ کر بچپن کی وہ مشہور کہانی یاد آ جاتی ہے جس میں لومڑی انگوروں تک نہ پہنچ پانے پر انہیں کھٹا قرار دے کر اپنی خفت مٹانے کی ناکام کوشش کرتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے جاہ و جلال میں براجمان ہو کر جب ٹرمپ صاحب یہ بڑھک مارتے ہیں کہ انہیں دنیا کی اس اہم ترین تجارتی گزرگاہ کی اب کوئی ضرورت نہیں رہی کیونکہ امریکہ اب توانائی میں خود کفیل ہو چکا ہے، تو ساتھ ہی وہ 6 اپریل کی ایسی لرزہ خیز ڈیڈ لائن بھی دے ڈالتے ہیں جیسے اس راستے کی ممکنہ بندش نے ان کی راتوں کی نیندیں اڑا دی ہوں۔ یہ کھلا تضاد دراصل اس شدید تلملاہٹ کا شاخسانہ ہے جو عالمی سیاست کے اس بڑے کھلاڑی کو تہران کی جانب سے ملنے والی مسلسل تزویراتی مزاحمت کے بعد لاحق ہوئی ہے۔ جب بس نہ چلے تو بے نیازی کا لبادہ اوڑھ لینا ٹرمپ کی پرانی جبلت ہے، بالکل ویسے ہی جیسے انہوں نے ماضی میں شمالی کوریا کو ‘آگ اور غصے’ (Fire and Fury) سے ڈرایا تھا مگر اس عظیم الشان بڑھک کا انجام صرف ایک بے نتیجہ فوٹو سیشن اور چند مسکراہٹوں پر ہوا، یا جیسے انہوں نے 24 گھنٹوں میں روس یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کے تمام تنازعات ختم کرنے کے دعوے کر کے کئی بار منہ کی کھا رکھی ہے۔

​آج بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں، وہ ایران کی جانب سے چند مخصوص بحری جہازوں کے گزرنے کو "ایران کا تحفہ” قرار دے کر اپنی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں اور ساتھ ہی "جہنم کھولنے” کی دھمکیاں دے کر یہ ثابت کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کا تالا دراصل واشنگٹن کے اعصاب پر بری طرح سوار ہے۔ اگر واقعی امریکہ کو اس تنگے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ تیل امریکہ نہیں جاتا تو پھر 6 اپریل کا یہ الٹی میٹم چہ معنی دارد؟ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ ٹرمپ کو تیل کی نہیں بلکہ اس ‘ٹریڈ ڈالر’ کی فکر ہے جس کی عالمی بالادستی پر ایران نے ‘یوان’ میں لین دین کا اعلان کر کے کاری ضرب لگائی ہے۔ تہران کی جانب سے ڈالر کو بائی پاس کرنے کا یہ تزویراتی حملہ دراصل وہ درد ہے جس کی وجہ سے ٹرمپ تلملا رہے ہیں، کیونکہ پیٹرو ڈالر کا زوال امریکی معیشت کے اس غبارے کو پھاڑ دے گا جس پر ان کی سپر پاور کا لیبل لگا ہے۔ ٹرمپ کی ان بڑھکوں کی قلعی خود ان کے اپنے سابقہ رفقاء اور یورپی اتحادیوں نے کئی بار کھولی ہے، جس سے عالمی سطح پر ان کی خوب جگ ہنسائی ہوئی۔ سابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے تو اپنی کتاب میں یہاں تک انکشاف کر دیا تھا کہ ٹرمپ کو جغرافیے کی بنیادی سمجھ تک نہیں اور وہ اکثر اہم تزویراتی فیصلوں کو محض ‘ٹی وی ریٹنگ’ کی بنیاد پر پرکھتے ہیں۔

​یہی وجہ ہے کہ جب ٹرمپ نے جی سیون (G7) اجلاسوں میں یورپی رہنماؤں کو دھمکانے کی کوشش کی، تو جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور فرانسیسی صدر میکرون کے سامنے ان کی حیثیت ایک ایسے ضدی بچے جیسی ہو گئی تھی جو سچائی سے نظریں چرا کر صرف اپنی انا کی تسکین چاہتا ہو۔ یورپی یونین کے عہدیداروں نے تو برملا یہ تک کہہ دیا تھا کہ ٹرمپ کے بیانات پر بھروسہ کرنا ریت کی دیوار پر محل بنانے کے مترادف ہے۔ ان کی ‘امریکہ فرسٹ’ پالیسی کو خود امریکی اسٹیبلشمنٹ کے سینئر عہدیداروں نے ‘امریکہ الون’ (امریکہ تنہا) قرار دے کر یہ ثابت کیا کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی دراصل جھوٹ اور تضادات کا مجموعہ ہے۔ اس وقت ٹرمپ کی اصل فرسٹریشن اسی سال ہونے والے وہ ‘مڈ ٹرم’ انتخابات ہیں جو ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر ری پبلکن ہار گئے تو ان کے مواخذے (Impeachment) کی تلوار پھر سے لٹکنے لگے گی، اس لیے وہ ہر صورت ایک "جعلی فتح” کی تلاش میں عالمی امن کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ٹرمپ کی یہ ساری گیدڑ بھبکیاں محض ایک سیاسی اسٹنٹ ہیں، جبکہ وہ اسی پرانی ڈگر پر کھڑے ہیں جہاں پہنچ سے باہر انگور ہمیشہ کھٹے ہی ہوتے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button