تل ابیب میں حساس اسرائیلی تنصیبات کو خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا،ایرانی فوج

تہران(جانوڈاٹ پی کے)ایران کی فوج نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پرشروع کیے گئے بلااشتعال حملوں کے 4 ہفتوں کے بعد اسرائیل کے شہر تل ابیب میں واقع حساس اور اسٹریٹجک مقامات کو خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنا دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق فوج نے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی یونٹ 6900 کے طور پر شناخت کی گئی ایک تنصیب پر ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جسے اسرائیلی فوج کا اہم سپورٹ اور لاجسٹکس مرکز تصور کیا جاتا ہے ، اور یہ بن گوریون ایئرپورٹ میں حکومت کی مسلح افواج کے اجتماع کے لیے استعمال ہونے والی جگہ ہے اور یہ کارروائی گزشتہ رات سے جاری ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ تازہ ترین ڈرون حملوں کا مقصد اسرائیلی حکومت کی خصوصی افواج کو نقصان پہنچانا اور اس کے لاجسٹک مراکز کو متاثر کرنا ہے۔
ایرانی فوج نے بتایا کہ اسرائیل کی یونٹ 6900 کا کام ٹینکر طیاروں کے لیے سازوسامان کی نقل و حمل اور فوجی اڈوں تک سازوسامان کی ترسیل ہے۔
مزید بتایا گیا کہ دشمن کی لاجسٹک لائنوں پر ڈرون حملوں سے فوری، محفوظ اور بڑے پیمانے پر نقل و حمل پر براہ راست اثر پڑے گا اور اسرائیلی حکومت کی جارحانہ کارروائیاں انجام دینے کی طاقت کمزور پڑے گی۔
اس سے قبل پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب میں امریکی فوجی کے زیراستعمال الخرج بیس پر حملہ کرکے امریکی لاجسٹ سپورٹ بیڑے اور ایندھن بھرنے والی متعدد گاڑیوں کو تباہ کردیا ہے۔
پاسداران انقلاب نے بتایا تھا کہ ان کی فورسز نے دشمن کے اینٹی میزائل دفاعی نظام کو تباہ کردیا ہے اور ٹھوس اور مائع ایندھن والے میزائلوں کے ساتھ الخرج بیس میں کامیابی سے داخل ہو کر وہاں موجود ایندھن بھرنے والے اور فضائی مدد فراہم کرنے والے بیڑے کو میزائلوں اور ڈرون کے بے دریغ حملوں سے نشانہ بنایا۔
مذکورہ حملے سے قبل پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں خطے میں موجود امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے پڑوسی ممالک کے عوام کو ان مراکز سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔



