تھرپارکر میں مبینہ خودکشیوں میں اضافہ

تھرپارکر (میندھرو کاجھروی/جانوڈاٹ پی کے)تھرپارکر ضلع میں مبینہ خودکشیوں کا بڑھتا ہوا رجحان ایک تشویشناک صورتحال اختیار کر چکا ہے، جہاں اکثر واقعات کو خودکشی قرار دے دیا جاتا ہے حالانکہ مقامی افراد کے مطابق کئی کیسز قتل بھی ہو سکتے ہیں، مگر انتظامیہ کی جانب سے سنجیدہ تحقیقات نہیں کی جا رہیں۔
گزشتہ روز ایک اور مبینہ خودکشی کا واقعہ تعلقہ ننگرپارکر کے گاؤں ڈیڈھرائی میں پیش آیا، جہاں 40 سالہ سورتو ولد مائرو کولہی کی لاش اس کے گھر میں درخت سے لٹکی ہوئی ملی۔ اطلاع ملنے پر ننگرپارکر پولیس موقع پر پہنچی، لاش کو تحویل میں لے کر ضروری قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا گیا، تاہم واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے کوئی خاطر خواہ تحقیقات نہیں کی گئیں۔مقامی ذرائع کے مطابق متوفی نے گھریلو پریشانیوں کے باعث خودکشی کی۔علاقے میں ایک دن قبل لوڻہیار میں پیش آنے والے واقعے میں لالو ساند کے ورثا نے اسے قتل قرار دیا ہے، جبکہ گاؤں میہاری میں 50 سالہ فوٹو ولد تسیڈنو بجیر کی لاش بھی درخت سے لٹکی ہوئی ملی تھی۔ننگرپارکر خودکشیوں کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس ان واقعات کی تحقیقات میں دلچسپی نہیں لے رہی، جس کی وجہ سے حقائق سامنے نہیں آ رہے۔ مزید یہ کہ منشیات کی کھلے عام فروخت بھی خودکشیوں میں اضافے کا ایک بڑا سبب بن رہی ہے۔ ایک مقامی فرد کے مطابق اکثر مرد اپنی کمائی گھریلو ضروریات پر خرچ کرنے کے بجائے نشے پر لگا دیتے ہیں، جس سے گھروں میں فاقہ کشی اور ذہنی دباؤ بڑھتا ہے۔
میڈیا کی ایک سروے کے مطابق ذہنی دباؤ اور ٹارچر بھی خودکشیوں کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں، جس کی مثال سول اسپتال مٹھی کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عبدالکریم شیخ کی خودکشی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کیس کو ہائی پروفائل بنایا گیا، تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی جبکہ متعدد ملزمان حفاظتی ضمانتیں حاصل کر چکے ہیں اور کچھ مفرور ہیں۔
اسی طرح پی پی ایچ آئی میں کام کرنے والے ڈاکٹر راول میگھواڑ نے مبینہ طور پر خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لی، جو بعد ازاں کراچی کے اسپتال میں دم توڑ گئے۔ ان کے کیس میں پیٹرول پمپ کے ملازمین اور ایک سماجی رہنما محمد جمن جوڻیجو کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، تاہم الزامات ہیں کہ پی پی ایچ آئی کی جانب سے بار بار تبادلوں اور دباؤ نے انہیں اس اقدام پر مجبور کیا، مگر اب تک ذمہ داران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ تھرپارکر ضلع تیزی سے خودکشیوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جبکہ ان واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات ناکافی نظر آتے ہیں۔



