لاہور کے مینٹل اسپتال سے ایک مریض ایمبولینس لےکرفرار

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)لاہور کے مینٹل اسپتال سے ایک مریض ایمبولینس لے کر نکل گيا ، شاہدرہ کے ایک اسپتال جاکر کہا کہ اس کا خون لے لیں، عملے نے حالت دیکھ کر پکڑ لیا اور بعد میں مینٹل اسپتال انتظامیہ کے حوالے کردیا۔

لاہور کی خاموش رات ابھی ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے احاطے میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سب کو چونکا دیا۔ گویا یہ کیس فلم کا سین تھا۔ گھڑی نے جیسے ہی چار بجائے، ایک مریض ریحان الحق اچانک اسپتال کے بلڈ بینک کی ایمبولینس پر قابض ہو گیا۔

چار سال سے زیر علاج مریض ریحان الحق نے ایمبولینس اسٹارٹ کی اور سکیورٹی گارڈز کو چکمہ دے کر اسپتال کی فصیلوں کو پیچھے چھوڑ گیا۔ لاہور کی مصروف شاہراہوں پر ایمبولینس کے سائرن کی گونج کے ساتھ ریحان الحق کی یہ غیر معمولی دوڑ تقریباً 15 کلومیٹر دور شاہدرہ اسپتال پہنچ کر ختم ہوئی۔ وہاں موجود عملے نے جب اس کی حرکات کو مشکوک پایا تو اسے روک جس پر  ریحان فوراً بولا، "میرا خون لے لو”۔

پولیس کو اطلاع ملی تو فوری طور پر ریحان کو ایمبولینس سمیت واپس پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ پہنچا دیا۔ اس دوران ریحان الحق پولیس اہلکاروں کے ساتھ معصومانہ انداز میں تصاویر بھی بنواتا رہا۔

اس واقعہ نے انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ چار رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی، جسے 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اسپتال میں زیرِ علاج مریض ایمبولینس کی چابی تک کیسے پہنچا؟ اور سکیورٹی گارڈز کی موجودگی میں گاڑی اسپتال سے باہر کیسے نکل گئی؟

انتظامیہ کے مطابق یہ کوئی معمولی غفلت نہیں بلکہ ایک سنگین سوالیہ نشان ہے، جس کے جواب کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔

مزید خبریں

Back to top button