ایران جنگ کا 27 واں روز: مذاکرات کی متضاد خبروں کے درمیان حملوں کی شدت میں مسلسل اضافہ

لندن(جانوڈاٹ پی کے)مشرق وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ 27 ویں روز میں داخل ہو گئی ہے اور حالات مزید شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
مختلف عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملوں کی تعداد اور شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ سفارتی سطح پر بھی متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ ایک بار پھر دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران کے رہنما معاہدہ کرنا چاہتے ہیں تاہم ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ امریکی دباؤ کے خلاف مزاحمت جاری رکھے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کا فی الحال مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں، خصوصاً اصفہان میں بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں، جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق شیراز کے قریب ایک رہائشی علاقے پر حملے میں دو کم عمر لڑکے جاں بحق ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی ممالک کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ امارات، سعودی عرب اور بحرین نے متعدد حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ بعض مقامات پر نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
خلیجی ممالک میں سکیورٹی خدشات بڑھنے کے ساتھ ساتھ کویت میں مبینہ طور پر حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن پر حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔
ادھر اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے مسلسل میزائل حملے کیے جا رہے ہیں، جبکہ لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر چکی ہیں۔ اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیاں بھی شروع کر دی ہیں۔
امریکا کی جانب سے ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کے کسی جزیرے پر قبضے کی کوشش کی گئی تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔
دوسری طرف عالمی سطح پر اس جنگ کے معاشی اثرات بھی واضح ہونے لگے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خوراک کی عالمی سپلائی بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش یا محدود فعالیت نے اسے سفارتی برتری دی ہے، جس کے باعث کسی بھی ممکنہ معاہدے کی شرائط پر اثر انداز ہونے کی پوزیشن مضبوط ہو گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ معلوماتی جنگ (انفارمیشن وار) اور معاشی دباؤ کے محاذ پر بھی شدت اختیار کر چکی ہے، اور فوری طور پر اس کے خاتمے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔



