عدالت نے پنجاب حکومت کو دفاتر کیلئے یونیورسٹی کی زمین لینے سے روک دیا

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو سرکاری دفاتر کیلئے ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی اراضی لینے سے روک دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چودھری محمد اقبال نے سیالکوٹ کے رہائشی نوید خالد کی جانب سے دائر آئینی درخواست پر سماعت کی، جس میں عدالت نے پنجاب حکومت کو یونیورسٹی کی اراضی سرکاری دفاتر کیلئے واپس لینے سے روک دیا۔
درخواست گزار کے وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت نے 2005 میں ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کے قیام کیلئے مجموعی طور پر 200 ایکڑ اراضی مختص کی تھی۔
میاں داؤد ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ویمن یونیورسٹی کی اراضی پر تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے اور وہاں طالبات زیر تعلیم ہیں، یہ یونیورسٹی علاقے کی بچیوں کیلئے واحد اور بہترین تعلیمی ادارہ ہے۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اب وزیر دفاع خواجہ آصف کی خواہش پر انتظامیہ یونیورسٹی کی 120 ایکڑ جگہ واپس لینا چاہ رہی ہے، اس حوالے سے خواجہ آصف کا بیان بھی درخواست کے ساتھ منسلک ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ مقامی انتظامیہ نے جھوٹ پر مبنی ریکارڈ کی بنیاد پر معاملہ پنجاب کابینہ کو بھیجا، جس کے بعد کابینہ نے اسی غلط ریکارڈ پر زمین واپسی کی منظوری دی، ریکارڈ کے مطابق پنجاب حکومت طالبات سے اراضی چھین کر وہاں کلرکوں کیلئے دفاتر تعمیر کرنا چاہتی ہے۔
میاں داؤد نے اسے بنیادی آئینی حقوق اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
سماعت کے دوران جسٹس چودھری محمد اقبال نے پنجاب حکومت کے وکیل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل چودھری تنویر اختر سے اہم مکالمہ کیا، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یونیورسٹی کیلئے جگہ ہمیشہ کم ہی ہوتی ہے، حکومت سے کہیں کہ وہ اپنے سرکاری دفاتر کسی دوسری جگہ پر تعمیر کر لے۔
عدالت نے کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے پنجاب حکومت، ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ اور چانسلر یونیورسٹی (گورنر پنجاب) کو نوٹس جاری کر دیئے، تمام فریقین کو 3 ہفتوں میں تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔



