مذاکرات کی میز تلے اربوں ڈالر کی ڈکیتی،یہودی گیٹ آؤٹ اور پی ایس ایل پر افغان حملے کے سائے

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے پاک-امریکہ-ایران مذاکرات کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ باوثوق ذرائع اور بلومبرگ جیسی عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے روکنے کے 5 روزہ الٹی میٹم والے ٹویٹ سے محض 15 منٹ پہلے اسٹاک مارکیٹ میں بڑی گیم کھیلی، جس سے ان کے قریبی حلقوں نے کروڑوں ڈالر کمائے۔ مبصرین اسے جنگ کی آڑ میں 580 بلین ڈالر کے حصص کی لین دین کا ‘وائٹ کالر کرائم’ قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب، مذاکرات کی میز پر ایران نے کڑی شرط عائد کی ہے کہ وہ کسی ‘یہودی’ نمائندے کے ساتھ نہیں بیٹھے گا، جس کے باعث جیرڈ کشنر اور اسٹیو ویٹ کوف مذاکرات سے باہر ہوتے نظر آ رہے ہیں اور اب ان کی جگہ جے ڈی وینس یا مارکو روبیو کے شامل ہونے کے امکانات ہیں۔
پاکستان نے امریکی صدر کی 15 نکاتی ‘امن ڈیل’ کا مسودہ ایرانی وفد تک پہنچا دیا ہے، جس میں پابندیوں کے خاتمے کی پیشکش کی گئی ہے۔ اس حساس صورتحال میں وزیراعظم شہباز شریف نے بلاول بھٹو زرداری اور وزراء اعلیٰ سندھ و بلوچستان کو اعتماد میں لیا ہے، جہاں صوبوں میں ‘سمارٹ لاک ڈاؤن’ کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔ اسی دوران، پی ایس ایل میچز تماشائیوں کے بغیر کروانے کے فیصلے کے پیچھے چھپا اصل راز بھی فاش ہو گیا ہے، جس کے مطابق یہ قدم محض کفایت شعاری نہیں بلکہ افغانستان کی جانب سے ممکنہ ‘ڈرون حملوں’ کے سنگین سیکیورٹی خدشات کے باعث اٹھایا گیا ہے۔




